آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکاشف حسین غائر

دھول آمادۂ سفر ہی نہ تھی

کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل

دھول آمادۂ سفر ہی نہ تھی
اِس طرف تو مری نظر ہی نہ تھی

جھلملاتے رہے ستارے بھی
شب گزاری چراغ پر ہی نہ تھی

اور یہ اُس گلی میں جا کے کھُلا
وہ گلی میری منتظر ہی نہ تھی

زندگی بھر رہی شریکِ سخن
رہ گزر صرف رہ گزر ہی نہ تھی

اپنی آب و ہَوا میں زندہ تھے
موسموں کی ہمیں خبر ہی نہ تھی

کشتیِ دل رواں دواں غائر
صرف موجِ خیال پر ہی نہ تھی

کاشف حسین غائر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button