- Advertisement -

کوششیں کر کے دل برا کیا تھا

اظہر فراغ کی ایک اردو غزل

کوششیں کر کے دل برا کیا تھا

اس پرندے کو جب رہا کیا تھا

کم اذیت میں جان چھوٹ گئی

اپنے قاتل سے مشورہ کیا تھا

خاک سے جتنا زہر جذب کیا

اپنی شاخوں سے رونما کیا تھا

میں نے اک دن بٹھا کے بچوں کو

اپنے اجداد کا گلا کیا تھا

ہم سے سرزد ہوا تھا کار خیر

کیا بتائیں کہ ہم نے کیا کیا تھا

ویسے وہ میری دسترس میں ہے

احتیاطاً محاصرہ کیا تھا

اظہر فراغ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
اظہر فراغ کی ایک اردو غزل