-
آپ کا سلام

بول پڑتے ہیں ہم جو آگے سے
ضیا مذکور کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

ایسے اُس ہاتھ سے گرے ہم لوگ
ضیا مذکور کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

اِسی ندامت سے اُس کے کندھے جھکے ہوئے ہیں
ضیا مذکور کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

ہم تو آپ سے اچھی باتیں کرتے ہیں
ضیا مذکور کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

کس طرح ایمان لاؤں خواب کی تعبیر پر
ضیا مذکور کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

آخری آندھی نے سب کچھ پہلے جیسا کر دیا
ضیا مذکور کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

وقت ہی کم تھا فیصلے کے لیے
ضیا مذکور کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

خدا کے ساتھ تعلق بگاڑنے لگا تھا
ضیا مذکور کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

ہمارے ساتھ کوئی مسئلہ فرات کا ہے
ضیا مذکور کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

اب بس اس کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے
ضیا مذکور کی ایک اردو غزل
