Hadayat Kaar

Hadayat Kaar Poem By Shahzad Nayyar

” ہدایت کار "
نہیں۔۔۔۔۔۔یہ زاویہ اچھا نہیں
آﺅ۔۔۔۔۔۔اِدھر سے روشنی ڈالو
وہی منظر اُجاگر ہو جو میں نے سوچ رکھا ہے
اُٹھاﺅ کیمرہ۔۔۔۔۔۔آگے بڑھو۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھو
فقط اُتنا دکھاﺅ جس قدر میں چاہتا ہوں
کیا ؟ ارے لکھا ہوا ایسے نہیں پڑھتے
اداکاری تو ایسی ہو
کوئی بھی دیکھنے والا نہ یہ سمجھے
کہ جو کرتے ہو وہ پہلے سے لکھا جاچکا ہے
دیکھ لو، جینے کی نوٹنکی تو مرنے سے بھی مشکل ھے
ذرا مر کر دکھاﺅ۔۔۔۔۔۔۔۔کَٹ!!! یہ مرنا ہے
ارے اس میں ذرا سی جان تو ڈالو
گزشتہ بھول جاﺅ سب
وہی دیکھو جو میں آگے دکھاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
مری ہر "سین”پر نظریں ہیں
کب کتنا چھپاناھے
کہاں کتنا دکھانا ھے
کہانی کو کدھر سے موڑ دینا ھے
پرانی داستاں اندر یہ منظر کس جگہ پر جوڑ دینا ھے
یہ سب کچھ جانتا ہوں میں
تمہارا کیا؟ ذرا سے بیچ کے کردار ہوتم سب
تو بس اتنی غرض رکّھو
کہاں آغاز تھا، انجام کب ہوگا
تمہیں پوری کہانی سے کوئی مطلب؟
تمہیں تو جلد ہی میں مار ڈالوں گا
کہانی کار بھی میں ہوں
ھدایت کار بھی میں ھوں

شہزاد نیّرؔ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

منتخب سلام
An Afsaana By Krishan Chander