پاکستان میں صحت کا شعبہ اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ بظاہر تو اسپتال، کلینک اور فارمیسیز مریضوں کی خدمت کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن ان کی دیواروں کے پیچھے کچھ ایسی سازشیں پل رہی ہیں جن کا انجام صرف ایک عام مریض کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کبھی کسی سرکاری یا نجی اسپتال کے باہر کی فارمیسی سے دوا خریدنے گئے ہوں تو ایک عام سا نسخہ بھی ہزاروں روپے کا پڑ جاتا ہے۔ مریض اور اس کے گھر والے پریشان ہو جاتے ہیں کہ دوا آخر اتنی مہنگی کیوں ہے؟ بدقسمتی سے یہ سوال نہ کوئی ڈاکٹر دیتا ہے، نہ کمپنی، نہ ریاست۔
یہ ایک کھلا راز ہے کہ پاکستان میں بیشتر ادویات ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کے ساتھ خفیہ مفادات کا رشتہ رکھتی ہیں۔ اب یہ تعلقات رشوت، لفافہ یا نقد رقم کی صورت میں نہیں بلکہ زیادہ ”مہذب“ انداز میں موجود ہیں۔ ان تعلقات کی بنیاد پر ڈاکٹروں کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی موبائل فونز، بیرونِ ملک سیاحت کے دورے، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام، فیملیز کے ساتھ شاپنگ اسپری اور دیگر پرتعیش سہولیات دی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ اس ایک شرط پر دیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کمپنی کی دوا تجویز کرے گا، خواہ مریض کو اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو، چاہے وہ دوا مہنگی ہو، اس کا متبادل موجود ہو، یا پھر اس کے ضمنی اثرات زیادہ ہوں۔
آج کل یہ معمول بن چکا ہے کہ ڈاکٹر کو سنگاپور میں کسی میڈیکل کانفرنس کا دعوت نامہ ملتا ہے۔ کمپنی کے خرچے پر ویزا، ٹکٹ، ہوٹل، فیملی سمیت تفریحی ٹور، سب کچھ ہوتا ہے۔ کانفرنس محض ایک بہانہ ہوتا ہے، اصل مقصد کمپنی کی نئی دوا کی پروموشن ہوتا ہے۔ ڈاکٹر واپس آ کر وہ دوا اپنے ہر دوسرے مریض کو لکھنا شروع کر دیتا ہے، اور ہر مریض اس تعلق کی قیمت چکاتا ہے۔ یہ قیمت صرف مالی نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات صحت، وقت اور اعتماد کی صورت میں بھی ادا کی جاتی ہے۔
یہ رشوت کا وہ نیا روپ ہے جس میں دینے والا بھی باعزت اور لینے والا بھی معتبر نظر آتا ہے۔ کوئی کیمرہ اسے پکڑ نہیں سکتا، کوئی قانون اسے جرم نہیں سمجھتا، اور کوئی مریض اتنا با اختیار نہیں کہ سوال کرے کہ ”ڈاکٹر صاحب! کیا یہ دوا واقعی میرے لیے ضروری ہے یا کسی فارما کمپنی کی مجبوری؟“
ادویات ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کو ماہانہ ”ٹارگٹ“ دیتی ہیں۔ اگر ڈاکٹر فلاں دوا کے 500 یونٹ تجویز کرے تو اسے موبائل فون دیا جائے گا۔ ہزار یونٹ پر لیپ ٹاپ، پانچ ہزار یونٹ پر عمرہ، اور دس ہزار یونٹ پر دبئی یا ترکی کا فیملی ٹور۔ کچھ ڈاکٹروں کے کلینک کمپنی کے اخراجات پر چلتے ہیں۔ ان کے نرسنگ اسٹاف کی تنخواہیں، فرنیچر، اے سی، جنریٹر، سب کچھ کمپنی مہیا کرتی ہے، اور بدلے میں دوا کا حکم صرف کمپنی کی ہوگی۔
اگر کوئی دوا سستی بھی ہو، لیکن کمپنی کے ساتھ ڈاکٹر کا معاہدہ نہ ہو، تو وہ دوا مریض کو تجویز ہی نہیں کی جاتی۔ بعض اوقات جنیرک دوا جس کی قیمت سو روپے ہے، اس کا ”برانڈیڈ“ ورژن جو سات سو روپے میں ملتا ہے، صرف اس لیے لکھا جاتا ہے کہ وہ کمپنی ڈاکٹر کو ”دیکھتی“ ہے۔ مریض کو دوا کے فرق کا اندازہ تک نہیں ہوتا، اور وہ اپنی جمع پونجی دوا پر لگا دیتا ہے، کبھی کبھی بچوں کی فیس، بجلی کا بل یا راشن قربان کر کے۔
یہ صورت حال صرف چند بڑے شہروں تک محدود نہیں رہی۔ اب تو چھوٹے شہروں، یہاں تک کہ دیہات میں بھی یہ نظام سرایت کر چکا ہے۔ فارما ریپریزنٹیٹیو ہر ہفتے ڈاکٹر سے ملتا ہے، نئی دوا دیتا ہے، نمونہ پیش کرتا ہے، فائلوں میں اس کے نسخے کی کاپیاں اکٹھی کرتا ہے اور اہداف کا جائزہ لیتا ہے۔ گویا مریض ایک تجربہ گاہ کا حصہ بن گیا ہے جہاں اصل علاج نہیں، اصل ہدف کمپنی کی فروخت ہے۔
اگر کوئی ادارہ واقعی سنجیدگی سے یہ فیصلہ کرے کہ ڈاکٹرز اور فارما کمپنیوں کے یہ تعلقات ختم کیے جائیں، تو پاکستان میں ادویات کی قیمتیں کم از کم تیس سے پچاس فیصد تک کم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے ہمیں صرف کمپنیوں کو نہیں، ڈاکٹروں کو بھی کٹہرے میں لانا ہو گا۔ کیا ایک ایسے ڈاکٹر کو ”شفیق مسیحا“ کہا جا سکتا ہے جو مریض کی بیماری کو اپنی کمائی کا ذریعہ سمجھتا ہو؟ کیا وہ کمپنی ”خدمتِ خلق“ کا دعویٰ کر سکتی ہے جو مریض کی جیب خالی کر کے ڈاکٹر کو سیر کراتی ہے؟
بدقسمتی سے ریاستی ادارے جیسے ڈریپ، پی ایم ڈی سی (اب پی ایم سی) ، وزارتِ صحت اور دیگر متعلقہ محکمے یا تو بے بس ہیں یا اس کھیل کا حصہ۔ نہ کوئی شفاف آڈٹ ہوتا ہے، نہ دوا کی قیمت میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ اس میں اشتہارات، تحائف اور دوروں کا خرچ شامل ہے یا نہیں۔ کوئی مریض سوال کرے بھی تو کہا جاتا ہے : ”یہ کمپنی کی پالیسی ہے۔“
اس صورتحال میں سب سے اہم کردار عوام کا ہو سکتا ہے۔ اگر مریض، اُن کے لواحقین، اور میڈیا مسلسل یہ سوال اٹھائیں، ڈاکٹروں سے وضاحت طلب کریں، متبادل دوا کے بارے میں پوچھیں، کمپنی کے نمائندوں سے سوال کریں، تو شاید ایک شعور بیدار ہو۔ اس شعور کے بغیر دوا ایک زہر بنتی جائے گی، اور ڈاکٹر ایک دکاندار۔
یہ وہ وقت ہے جب ہمیں صحت کے شعبے کو کاروبار سے نکال کر خدمت کی طرف واپس لانا ہو گا۔ ورنہ مریض صرف دوا کے نام پر زندگی بھر اپنا سب کچھ لٹاتا رہے گا، اور یہ ”سہولت کاری“ کا شیطانی نظام اس کی لاش پر اپنی کامیابی کا جشن مناتا رہے گا۔
یوسف صدیقی







