- Advertisement -

روز و شب اک ایک پل زخمِ جُدائی دیکھئے

ناہید ورک کی اردو غزل

روز و شب اک ایک پل زخمِ جُدائی دیکھئے
آرزو کے ساتھ دردِ نارسائی دیکھئے
وقت کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر یاد کا
دائرہ در دائرہ کاٹے گا کائی دیکھئے
میرا لہجہ ہے خزاں آثار، دل خاموش ہے
گلشنِ ہستی میں میری کم نوائی دیکھیئے
وہ اگر سورج ہے اُسکی دھوپ بن جاؤں گی میں
مجھ میں بھی یعنی وہی جلوہ نمائی دیکھئے
عشق کی جلوہ گری کے واسطے کم ہے یہ دہر
اک جہانِ تازہ کیا ساری خدائی دیکھیئے

ناہید ورک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ناہید ورک کی اردو غزل