- Advertisement -

طمانچہ

صباحت اروج کی ایک نظم

طمانچہ

درزی بھائی
یہ لوکپڑا۔۔۔۔۔کالاکپڑا
روشن دن کے عین مخالف
اندھیرے سا کالا
اور اس کپڑے سے اک سی دو
برقعہ
ماں کہتی تھی
دھی کی عزت ھی عزت ھے
اپنے آپ کوآپ سنبھالو
وقت ہی کچھ ایسا ھے بھائی

اور بچے گا جتنا کپڑا
اس سے سی دو
اور اک برقعہ۔۔۔

برقعہ میری زینب کا
نہیں جی کپڑا کم نہ ھوگا
میری زینب ۔۔۔چار برس کی ننھی گڑیا

میں بھی ماں ھوں
خبریں سنتے ھوگے تم بھی
چاربرس کی بچی کا بھی برقعہ سی دو
دھی کی عزت ھی عزت ھے
اپنے آپ کو آپ سنبھالو
وقت ھی کچھ ایسا ھے بھائی

صباحت عروج

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
انور شعورکی ایک اردو غزل