غزہ کی سمندری ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے روانہ ہونے والی بین الاقوامی فلوٹیلا، جسے "گلوبل صمود فلوٹیلا” کہا جاتا ہے، اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس میں تقریباً ۴۳ جہاز اور ۵۰۰ کے قریب کارکن شامل ہیں، جن میں سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور جنوبی افریقی رہنما منڈلا منڈیلا جیسی مشہور شخصیات بھی شامل ہیں۔ فلوٹیلا کا مقصد غزہ کے محصور عوام تک خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان پہنچانا اور اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف عالمی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کرنا ہے۔
یہ فلوٹیلا ۳۰ اگست ۲۰۲۵ کو بارسلونا سے روانہ ہوئی اور غزہ کی سمت جاری ہے۔ تاہم، اسرائیلی بحریہ نے متعدد جہازوں کو بین الاقوامی پانیوں میں روکا اور ان کے راستے میں رکاوٹیں ڈالیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت کی گئی ہیں، جبکہ فلوٹیلا کے منتظمین نے انہیں غیر قانونی اور جارحانہ قرار دیا ہے۔
اسرائیلی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں کئی کارکن گرفتار کیے گئے ہیں۔ رات کے وقت معلوم ہوا کہ گرفتاریاں شروع کر دی گئی ہیں، جس سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ظاہر ہوتی ہے۔ عالمی برادری نے اس اقدام پر فوری تشویش کا اظہار کیا ہے اور گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس معاملے میں
بین الاقوامی ردعمل بھی شدید رہا ہے۔ ترکی نے اس کارروائی کو دہشت گردی قرار دیا، کولمبیا نے دو شہریوں کی گرفتاری کے بعد اپنے سفارتکار اسرائیل سے واپس بلا لیے، اور ملائیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم نے سخت مذمت کی۔ اٹلی اور اسپین نے بھی فلوٹیلا کے شرکاء کی حفاظت اور امدادی سامان کی ترسیل کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی سطح پر بھی اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اسرائیلی فورسز کی کارروائی کی سخت مذمت کرتا ہے اور تمام گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا واحد جرم غزہ کے مظلوم عوام کے لیے امداد پہنچانا تھا۔ عوامی سطح پر بھی احتجاجی مظاہرے اور بیانات سامنے آئے ہیں۔
مشتاق احمد خان، جو اس فلوٹیلا میں پاکستانی وفد کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے اس مہم میں حصہ لے کر عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ ہے اور ان کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کی شرکت سے پاکستان کی نمائندگی عالمی سطح پر نمایاں ہوئی اور ملکی سطح پر اس معاملے پر گفتگو کو بھی جاندار بنایا گیا۔
اس وقت فلوٹیلا کی کچھ کشتیاں غزہ کی سمت روانہ ہیں، جبکہ کچھ کو اسرائیلی فورسز نے روکا ہوا ہے۔ شرکاء عالمی برادری سے اپیل کر رہے ہیں کہ امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں نہ ڈالیں اور مظلوم فلسطینی عوام کی مشکلات پر فوری توجہ دی جائے۔ یہ فلوٹیلا نہ صرف امدادی اقدام ہے بلکہ عالمی یکجہتی اور انسانی حقوق کے لیے عملی مظاہرہ بھی ہے۔
اسرائیل کی اس کارروائی کی شدید مذمت کی جانی چاہیے۔ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی واضح ہے۔ عالمی برادری کو فوری طور پر ان گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرنا چاہیے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ امدادی سامان کی رسائی میں رکاوٹیں نہ ڈالے۔ یہ قدم نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی انصاف اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کی پاسداری کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
یوسف صدیقی







