آپ کا سلاماردو غزلیاتحارث بلالشعر و شاعری

جو خوشبوؤں سے غلط فائدہ اٹھاتا ہے

حارث بلال کی ایک اردو غزل

جو خوشبوؤں سے غلط فائدہ اٹھاتا ہے
اسے زمیں سے وہ بے دست و پا اٹھاتا ہے

جناب چلتے ہیں جیبوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے
اور ان کا بیگ کوئی دوسرا اُٹھاتا ہے

یہ ایک پھول جو کھلتا ہے دو جہانوں میں
وہ اضطراب میں دستِ دعا اٹھاتا ہے

کوئی فرار کا رستہ نہیں ہے دنیا سے
ہر ایک خواب نیا مسئلہ اٹھاتا ہے

مقام پاتے ہیں رستے میں آنے والے بھی
فقیر خود نہیں اٹھتے، خدا اُٹھاتا ہے

ندی کا فیض فقط ڈوب کر نہیں ملتا
گزرنے والوں کو بھی آئنہ اٹھاتا ہے

دعا بھی رہتی نہیں ہے شکستہ دامن میں
تُو اس پھٹے ہوئے تھیلے میں کیا اٹھاتا ہے؟

مرے شریک کی ترتیب خوب ہے حارثؔ
مجھے اٹھانے سے پہلے دیا اٹھاتا ہے

حارث بلال

post bar salamurdu

حارث بلال

حارث بلال 1993دسمبر میں سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 2014 میں شاعری کا آغاز کیا۔ ان کا شعری مجموعہ "ہم شجر" نومبر 2025 میں شائع ہو چکا ہے۔ تعلیمی حوالے سے ایم فل کی ڈگری لمز یونیورسٹی لاہور سے حاصل کر چکے ہیں اور گولڈ میڈل کے حامل ہیں۔ تا حال وہ نمل یونیورسٹی میانوالی میں اسسٹنٹ رجسٹرار کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button