یہ بھی میرا گمان ہو شاید
یا عدم میں امان ہو شاید
نغمہء عندلیب میں پنہاں
ہجر کی داستان ہو شاید
دیکھ تو اے چراغِ صبح ذرا
کچھ مرا بھی نشان ہو شاید
چار تنکے ہوا انھیں نہ سمجھ
یہ کسی کا جہان ہو شاید
یہ ترا طرزِ گفتگو اے دوست
تیرے شایانِ شان ہو شاید
شکوہء نارسائی کر تو لیا
نذرِ خنجر زبان ہو شاید
آگیا ہوں اسی فریب میں پھر
اب کہ وہ مہربان ہو شاید
سانس چلتا ہے اب تلک جو فرید
اور کوئی امتحان ہو شاید
فرید احمد دیو








