- Advertisement -

کیا ایسانہیں ہوسکتا

خوشبوئے قلم محمدصدیق پرہار

کیا ایسانہیں ہوسکتاکہ ہرسال یکم سے دس محرم الحرام تک،یکم سے ۲۱ ربیع الاول تک ،رمضان المبارک کاپورامہینہ ،شب معراج اورشب برات کوملک کی تمام سیاسی جماعتیں ان محترم ایام کے احترام میں اپنی سیاسی سرگرمیاں معطل کردیں ۔ ان ایام میں سیاسی جلسے،ریلیاں ،لانگ مارچ نہ کریں ۔

کیا ایسانہیں ہوسکتا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں متذکرہ بالا ایام ،خلفائے راشدین کے ایام اوردیگراسلامی ایام کی مناسبت سے اپنی اپنی سیاسی جماعت کے تحت تمام شہروں ، تمام قومی وصوبائی حلقوں ،تحصیل وضلعی صدرمقام پرجلسے کریں ۔ ان میں قرآن پاک کے مقامی قاری قرآن پاک کی تلاوت کریں ،مقامی نعت خواں ہدیہ نعت پیش کریں اورمقامی مفتیان کرام وعلمائے کرام خطاب کریں ۔ قرآن پاک کے قاری، نعت خواں ،مفتیان کرام اورعلمائے کرام کوپارٹی وابستگی دیکھ کرنہیں بلکہ ان کی صلاحیت اورعلمی معیار کومدنظررکھ کرمدعوکیاجائے ۔ ان جلسوں میں سیاسی گفتگواورسیاسی نعرے بازی سے اجتناب کیاجائے اورکیاہی اچھاہوتمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سیاسی اختلاف بھلاکراس طرح کے ایک دوسرے کے جلسوں میں شرکت کریں ۔ تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی تربیت بھی ہوتی رہے اورملک کی عوام میں اچھاپیغام جائے ۔

کیا ایسانہیں ہوسکتا کہ متذکرہ بالا ایام کی مناسبت سے پارلیمنٹ کے دونوں اجلاس اورصوبائی اسمبلیوں کے اجلاس بلائے جائیں ۔ ان اجلاسوں میں سیاسی گفتگونہ کی جائے بلکہ ان دنوں کی مناسبت سے مفتی منیب الرحمن، علامہ رضاثاقب مصطفائی، پیراجمل رضاقادری، سیّد حامدسعیدکاظمی جیسے علماء کرام خطاب کریں ۔

کیا ایسانہیں ہوسکتا کہ ملک میں جب بھی زلزلہ یاسیلاب آئے، جب وبائی امراض پھیلنے لگیں ،جب بھی ملک کوقوم کواس طرح کی صورت حال کا سامنا ہوتوملک کی تمام سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی اختلاف بھلاکرایک ہوجائیں ۔ متاثرہ عوام کوریسکیوکرنے اورانہیں ریلیف دینے اوران کی بحالی کے لیے یکسو ہو جائیں ۔ اس طرح کی صورت حال میں بڑی بڑی سیاسی جماعتیں ایک ایک صوبہ کی ذمہ داری لے لیں ۔ پنجاب میں مسلم لیگ نواز گروپ، سندھ میں پیپلزپارٹی، خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف، بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام، گلگت بلتستان میں تحریک لبیک پاکستان اورآزادکشمیر میں جماعت اسلامی کے قائدین، راہنما اورکارکنان متاثرہ عوام کوریسکیو کرنے، انہیں ریلیف دینے اوران کی بحالی کے کاموں میں مصروف ہوجائیں ۔ متاثرہ عوام کے لیے رہائش کا انتظام کریں ۔ ان کے کھانے پینے اوران کے لیے ادویات کی فراہمی کابندوبست کریں ۔ دیگرسیاسی جماعتوں کے قائدین، راہنما اورکارکنان بھی متاثرہ عوام کی مشکلات کم کرنے میں اپنا اپناکرداراداکریں ۔ کسی بھی صوبہ میں اس سلسلہ میں کام کرنے والی سیاسی جماعتیں ریاستی اداروں کے ساتھ قومی جذبہ کے ساتھ تعاون کریں ۔ اس کے علاوہ اس طرح کی صورت حال میں مذہبی اورفلاحی تنظی میں بھی اپنے اپنے وسائل اورذراءع کی مناسبت سے ایک ایک صوبہ ،ایک ایک ڈویژن یا ایک ایک ضلع کی ذمہ داری لے لیں ۔

کیا ایسانہیں ہوسکتا کہ عمران خان کے پی کے اورآصف زرداری سندھ حکومت کوکالاباغ ڈیم بنانے پرآمادہ کریں ۔ دونوں سیاسی لیڈرز اپنی اپنی صوبائی حکومتوں کوسمجھائیں کہ کالاباغ ڈیم نہ بننے سے جب بھی سیلاب آتاہے ملک وقوم کاکتنانقصان ہوتاہے اورہرسال کتناپانی سمندر میں چلاجاتاہے ۔ خیبرپختونخوا اورسندھ کی حکومتیں کالاباغ ڈیم بنانے کے لیے آمادہ ہوجائیں تویہ ان کی حب الوطنی کاثبوت ہوگا ۔ کیا ایسانہیں ہوسکتا کہ نوازشریف اس سلسلہ میں آصف زرداری سے بات کریں ۔ اس کولیشن حکومت کاملک وقوم کوکوئی توفائدہ ہوناچاہیے ۔ کیا ایسانہیں ہوسکتا کہ صدرپاکستان عارف علوی پاکستان کے تمام وزرائے اعلیٰ کوایک میزپربٹھاکرانہیں کالاباغ ڈیم بنانے پرآمادہ کریں ۔

کیا ایسانہیں ہوسکتا کہ جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں وزیراعظم پاکستان شہبازشریف دنیاکوبتائیں اورمطالبہ کریں کہ پاکستان نے دودہائیوں تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کاکرداراداکیا ۔ ہمارے ملک کواس جنگ میں بھاری جانی ومالی نقصان اٹھاناپڑا ۔ اب افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم ہوچکی ہے ۔ امریکہ وہاں سے واپس آچکاہے ۔ پاکستان سے وعدہ کیاگیاتھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات پاکستان کودیے جائیں گے ۔ ہمارے ساتھ کیے گئے اس وعدہ پرآج تک عمل نہیں کیاگیا ۔ کولیشن سپورٹ فنڈزکی رقم پاکستان کونہیں ملی ۔ ہمارے ساتھ کیے گئے اس وعدہ پرعمل کرتے ہوئے پاکستان کوکولیشن سپورٹ فنڈزکی رقم دی جائے ۔

سیلاب اوربارشوں سے متاثرہ عوام کی مددکے لیے دنیاکے مختلف ممالک نے پاکستان کوامدادفراہم کی ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں کادورہ کرکے واپس جاچکے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان میں سیلاب سے تباہی کاذمہ دارموسمیاتی تبدیلی اورترقی یافتہ ممالک کوٹھہرایاہے ۔ برطانوی پارلیمنٹ میں پاکستان کے قرضے معاف کرنے کی بات کی گئی ہے ۔ وزیراعظم شہبازشریف جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں یقینا پاکستان کی سیلاب زدہ عوام کی مددکرنے پران ممالک اورسیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کاشکریہ اداکریں گے ۔ کیا ایسانہیں ہوسکتا کہ وزیراعظم شہبازشریف اپنے خطاب میں عالمی مالیاتی اداروں اورپاکستان کوامداداورقرضے فراہم کرنے والے ممالک سے یہ بات کریں کہ پاکستان اپنے سیلاب زدہ عوام کی بحالی اپنے وسائل میں رہتے ہوئے کرلے گا ۔ عالمی مالیاتی ادارے اورپاکستان کوقرض فراہم کرنے والے تمام ممالک ہمارے ساتھ اتناتعاون کرلیں کہ پاکستان نے جتنا بھی قرض لیا ہواہے ۔ اصل قرض واپس کردے گا ۔ اس قرض پرجتنابھی سودہے وہ پاکستان سے وصول نہ کیاجائے ۔ اس سے پاکستان کی مددبھی ہوجائے گی اور قرض فراہم کرنے والوں کانقصان بھی نہیں ہوگا ۔

کیا ایسانہیں ہوسکتاکہ پاکستان کے تمام دریاءوں خاص طورپردریائے سندھ کے دونوں کناروں کے ساتھ ساتھ پھل داردرخت اس طرح لگائے جائیں کہ ہردودرختوں کے درمیان ۵۲ سے ۰۳ فٹ کافاصلہ ہو ۔ اسی فاصلے کے ساتھ دریاکے دونوں کناروں کے ساتھ ساتھ چھ ،چھ قطاروں میں درخت لگائے جائیں ۔ اس سے ہم سمجھتے ہیں کہ دریاکے دونوں کنارے اس طرح محفوظ ہوجائیں گے کہ دریاکاکٹاءورک سکتاہے ۔ اوردریاکے دونوں کناروں کے ساتھ لگے ہوئے پھل داردرختوں کے پھل نہ صرف ملک بھر میں فروخت کیے جاسکیں گے بلکہ یہ تمام پھل برآمدکرکے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیاجاسکتاہے ۔ ان درختوں کی دیکھ بھال اوران کے پھلوں کی پیکنگ وغیرہ اورپھلوں کومنڈیوں اوربیرون ملک لے جانے کے سلسلہ میں ہزاروں شہریوں کوباعزت روزگاربھی مل سکتاہے ۔

حکومت پاکستان کوملک کے اخراجات پورے کرنے اورسٹیٹ بینک میں کم سے کم اتنی کرنسی رکھنے جس سے ملک کودیوالیہ ہونے سے بچایاجاسکے قریبی دوست ممالک اورمالیاتی اداروں سے سخت سے سخت شرائط پروقتاً فوقتاً قرض لیناپڑتاہے ۔ کیا ایسانہیں ہوسکتاکہ حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے پانچ سے دس سالوں کے لیے قرض لے لیاکرے ۔ اگرہم اس قرض کے بدلے میں مراعات دینے کالکھیں گے تویہ سودہوجائے گا ۔ اس قرض کی واپسی اس طرح کی جائے کہ قرض دینے والوں کے ذمہ ریاست کے جوبھی ٹیکسز ہوں وہ اس قرض سے منہاکیے جاتے رہیں ۔ قرض کی مدت پوری ہونے پراس دوران قرض دینے والوں کے ذمہ واجب الاداٹیکسزمنہاکرنے کے بعدجوقرض باقی رہ جائے حکومت پاکستان وہ واپس کردے ۔ بیرون ملک میں رہنے والوں سے لیے گئے قرض کوسٹیٹ بینک میں رکھاجائے اوراس سے بیرونی ادائیگیاں کی جائیں ۔

کیا ایسانہیں ہوسکتا کہ ملک میں کام کرنے والے کارخانوں ، فیکٹریوں کے مالکان ، کاروباری شخصیات سے بھی حکومت پاکستان پانچ سے دس سال کے لیے قرض لے لے ۔ قرض دینے والوں کے ذمہ واجب الاداٹیکسز اوربجلی اورگیس کے بل اسی قرض سے منہاکیے جاتے رہیں ۔ قرض دینے والوں کوبجلی وگیس کے بل اس طرح بھیجے جائیں کہ حکومت پاکستان کودیے گئے قرض کی کل رقم یہ ہے ۔ اب تک بل کی مد میں اتنی رقم منہاہوچکی ہے ۔ موجودہ مہینے کابل یہ ہے اور حکومت پاکستان کے ذمہ قرض دینے والے کا اتناقرض واجب الاداہے ۔ حکومت پاکستان کوقرض دینے کی ابتداپاکستان کی سیاسی قیادت اورسیاسی جماعتوں کو کرنی چاہیے ۔ شریف خاندان، بھٹوخاندان، عمران خان، جہانگیرترین وغیرہ زیادہ نہیں تواپنا ایک تہائی سرمایہ ریاست پاکستان کوقرض دے کرپاکستانی شہریوں کے لیے مثال قائم کریں ۔ اگریہ خاندان اورشخصیات ریاست کوقرض دے دیں تودیگرصاحب حیثیت شہری بھی ریاست کوقرض دینے لگیں گے ۔ اس طرح حکومت پاکستان کابیرونی قرضوں پرانحصارکم سے کم ہوجائے گا اورعالمی مالیاتی اداروں کی سخت سے سخت شرائط بھی نہیں مانناپڑیں گی ۔

کیا ایسانہیں ہوسکتا کہ جس طرح قومی وصوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی مخصوص نشستیں ہیں ۔ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی حاصل کردہ سیٹوں کے تناسب سے خواتین کومخصوص نشستوں کے لیے نامزدکیاجاتاہے ۔ اسی طرح کی مخصوص نشستیں علماء کرام کی بھی ہونی چاہییں ۔ بہترہوگا کہ علماء کرام کی مخصوص نشستیں سیاسی وابستگی کے تحت نہیں بلکہ علماء کرام کی علمی قابلیت اورموجودہ دورکے تقاضوں کے مطابق قرآن وسنت اورفقہ کی روشنی میں مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت کے معیارکودیکھ کرنامزدگیاں کی جائیں ۔ جس طرح کوئی بھی قانون یابل قومی یاصوبائی اسمبلیوں میں پیش ہونے سے پہلے یابعد میں متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیجاجاتاہے ۔ قومی وصوبائی اسمبلیوں میں کوئی بھی قانون پیش کرنے سے پہلے علماء کرام کی کمیٹی میں پیش کیاجائے ۔ علماء کرام اس قانون یابل کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنی رائے دے ۔ علماء کرام کی رائے مثبت ہوتوقانون یابل کومتعلقہ قائمہ کمیٹی کوبھیجاجائے اگرعلماء کرام کی رائے اس قانون یابل کے بارے میں مثبت نہ ہوتواس پرکارروائی کوروک دیاجائے ۔

پاکستان پہلے ہی مختلف ممالک اورمالیاتی اداروں کامقروض ہے ۔ ہم اپنی پالیسیوں اورقوانین پرنظرثانی کرلیں توقوم کاقیمتی وقت اورسرمایہ بچایا جا سکتا ہے ۔ قوم کے قیمتی سرمایہ کوبچانے کے لیے پہلے ہی وفاقی حکومتیں اقدامات کرتی رہی ہیں ۔ پالیسیوں اورقوانین پرمزیدنظرثانی کی جائے توقوم کامزیدسرمایہ بچایا جاسکتاہے ۔ پاکستان میں کوئی بھی سیاست دان ایک سے زیادہ سیٹوں پرانتخابات میں حصہ لے سکتاہے اورایک سے زیادہ سیٹوں پرکام یابی حاصل کرنے کے بعداسے ایک سیٹ کے علاوہ تمام سیٹیں چھوڑ ناہوتی ہیں ۔ اس کی چھوڑی ہوئی سیٹوں پردوبارہ انتخابات کرائے جاتے ہیں جس سے قوم کاقیمتی وقت اورسرمایہ خرچ ہوتاہے ۔ کیا ایسانہیں ہوسکتاکہ کسی بھی سیاست دان پرایک سے زیادہ سیٹوں پرانتخابات میں حصہ لینے پرپابندی لگادی جائے ۔ کوئی بھی سیاست دان صرف او ر صرف قومی یاصوبائی ایک سیٹ پرانتخابات میں حصہ لے سکے ۔ اس سے قوم کاوہ قیمتی وقت اورسرمایہ بچ جائے گاجوایک سے زیادہ سیٹوں پرکام یابی کی صورت میں سیاست دانوں کی چھوڑی ہوئی سیٹوں پردوبارہ انتخابات پرخرچ ہوناتھا ۔ اس سے ایک اورفائدہ بھی ہوگا کہ سیاسی جماعتوں کے زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو انتخابات میں حصہ لینے کاموقع ملے گا ۔

ایک طرف ملک میں معیشت کی زبوں حالی کی وجہ سیاسی عدم استحکام بتایاجاتاہے ۔ دوسری طرف وفاقی حکومت تبدیل ہوئی ۔ پنجاب میں عثمان بزدارکی وزارت اعلیٰ میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی ۔ پھرحمزہ شہبازکی وزارت اعلیٰ میں پی ڈی ایم کی حکومت بنائی گئی ۔ اب پرویزالٰہی کی وزرات اعلیٰ میں ق لیگ کی حکومت ہے یاپی ٹی آئی کی;238;اس سوال کاجواب تلاش کرتے رہیں ،وفاق میں ایک بارپھرحکومت تبدیل ہونے کی باتیں ہوچکی ہیں اب نہیں ہورہی ہیں ۔ البتہ پنجاب میں حکومت تبدیل کرنے کی باتیں ایک بارپھرسے ہورہی ہیں ۔ کیا ایسانہیں ہوسکتا کہ وفاق اورصوبوں میں اس وقت جوحکومتیں کام کررہی ہیں عام انتخابات کے اعلان تک یہی حکومتیں کام کرتی رہیں ۔

کیا ایسانہیں ہوسکتا کہ سیاست دان جلسے کرنے، ایک دوسرے کونیچادکھانے اورایک دوسرے کی حکومتیں تبدیل کرنے کے بجائے ۔ معیشت اورسیلاب زدگان کی بحالی پریکسوہوجائیں ۔

اس تحریر کوپڑھنے کے بعدآپ بھی سوچیں کہ اورکیاکیا ایسانہیں ہوسکتا جواس تحریر میں نہیں لکھاگیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ سے یہ بھی مشورہ ضرور کریں کہ اس تحریر میں جن امورکے بارے میں یہ سوال کیاگیاہے کہ کیا ایسانہیں ہوسکتا ،کیاواقعی ایسانہیں ہوسکتا ۔ اپنے آپ سے یہ سوال بھی کریں کہ اگر ایسا ہو سکتاہے تواب تک ایساکس لیے نہیں ہوا ۔ ہوسکے تویہ تحریران کے سامنے بھی رکھ دی جائے جویہ سب ایساکرسکتے ہیں

محمدصدیق پرہار

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
سعادت حسن منٹو کی سوانح حیات