اردو نظمشعر و شاعریمجید امجد

یہ دنیا

ایک اردو نظم از مجید امجد

یہ دنیا یہ بے ربط سی ایک زنجیر
یہ دنیا یہ اک نامکمل سی تصویر
یہ دنیا نہیں میرے خوابوں کی تعبیر
میں جب دیکھتا ہوں یہ بزمِ فانی
غمِ جاودانی کی ہے اِک کہانی
تو چیخ اُٹھتی ہے میری باغی جوانی
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دُنیا
گُناہوں میں لتھڑے رواجوں کی دُنیا
محّبت کے دشمن سماجوں کی دُنیا
یہاں پر کلی دل کی کھلتی نہیں ہے
کوئی چِق دریچوں کی ہلتی نہیں ہے
مَرے عشق کو بھیک ملتی نہیں ہے
اگر میں خُدا اس زمانے کا ہوتا
تو عنوان اور اس فسانے کا ہوتا
عجب لطف دنیا میں آنے کا ہوتا​

 

مجید امجد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button