توپوں کی گھن گرج میں امن کی صدا
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
رات کے اندھیرے میں سرحدوں پر توپوں کی گھن گرج سنائی دی تو فضا میں ایک بار پھر بارود کی بو پھیل گئی۔ کچھ دن پہلے پاکستانی فضائیہ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کی تھی۔ یہ کارروائی اُن مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی تھی جن میں بتایا گیا کہ پاکستانی طالبان کے متعدد اہم کمانڈر افغان سرزمین پر موجود ہیں اور پاکستان کے اندر ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی وہیں سے کی جا رہی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کے سربراہ کی ہلاکت کی خبریں زیرِ گردش آئیں۔ اسی پس منظر میں افغان طالبان نے سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور جارحانہ ردِعمل کا آغاز کیا۔ یہ صورتحال اچانک نہیں بلکہ ایک طویل عمل کا تسلسل ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، سرحد پار سے دراندازی اور افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان کے محفوظ ٹھکانے اس تنازع کی اصل جڑ ہیں۔
پاکستان نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا مگر جب دشمن کی گولی گھر کی دہلیز پر آن لگے تو خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ یہی وہ وقت تھا جب پاکستان نے واضح پیغام دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر ہونے والے ہر حملے کا جواب دے گا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملے صرف دہشت گرد ٹھکانوں اور عسکری مراکز پر کیے گئے، افغان عوام یا شہری مقامات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ پاکستان کے لیے یہ لڑائی افغانستان کے عوام کے خلاف نہیں بلکہ ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہے جنہوں نے افغانستان کی زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔
صدرِ مملکت نے افغانستان کی جانب سے جارحیت پر اپنے ردِعمل میں واضح مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات، علاقائی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پر کسی بھی متنازعہ یا گمراہ کن مؤقف کو پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا، اور بھارت کی جانب سے کشمیر سے متعلق ہر غیر قانونی دعویٰ عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے۔ صدر نے افسوس کا اظہار کیا کہ افغان قیادت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہدِ آزادی سے منہ موڑ کر تاریخ اور امت دونوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے ہونا اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں سے بھی ثابت شدہ حقیقت ہے۔ پاکستان بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان کی گٹھ جوڑ سے پاکستان کے شہری اور سیکیورٹی اہلکار نشانہ بن رہے ہیں۔ صدر نے افغان قیادت پر زور دیا کہ وہ پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے، کیونکہ فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندوستان خطے کے امن اور استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔
پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں افغان عوام کی میزبانی کر کے اسلامی اخوت اور بھائی چارے کی مثال قائم کی۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے، مگر بدقسمتی سے اسی سرزمین سے اب دہشت گردی کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ امن کی بحالی کے ساتھ افغان شہریوں کی باعزت واپسی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ پاکستان افغان عوام کی تعلیمی اور انسانی ضروریات کے لیے تعاون جاری رکھے گا، لیکن اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کہا کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ افغانستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزی پر انہوں نے شدید مذمت کی اور پاک فوج کی بھرپور کارروائی پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت پر قوم کو فخر ہے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے جرأت، حکمت اور عزم کے ساتھ مؤثر جواب دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا کہ پاک فوج پوری قوم کی عزت، غیرت، عزم اور وقار کی علمبردار ہے۔ افغان جارحیت کا جواب افواجِ پاکستان نے ہمیشہ کی طرح جرأت، دانشمندی اور قومی اتحاد سے دیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بارہ کروڑ عوام اپنی بہادر افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر اپنی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائی میں متعدد دہشت گرد ٹھکانے تباہ کیے گئے۔ کئی طالبان جنگجو ہلاک یا فرار ہو گئے، اور کچھ ویڈیوز میں طالبان
سپاہیوں کو پاک فوج کے سامنے ہتھیار ڈالتے دیکھا گیا۔ بعض افغان پوسٹوں پر پاکستانی پرچم لہرایا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کا ہدف صرف دہشت گرد عناصر ہیں، افغان عوام نہیں۔
افغان وزیرِ خارجہ کے بھارت کے دورے کے دوران افغانستان کی پاکستان پر جارحیت کو حکومتی وزراء نے قابلِ مذمت اور قابلِ غور قرار دیا۔ وزیرِ اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ دفترِ خارجہ کا واضح مؤقف ہے کہ یہ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرناک ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ افغانستان کو ہندوستان کی طرح منہ توڑ جواب دیا جائے گا، کیونکہ شہری آبادی پر فائرنگ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سعودی عرب نے بھی پاک افغان سرحد پر حالیہ جھڑپوں پر محتاط مگر متوازن ردِعمل دیتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاض ان واقعات کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے اور دونوں برادر ممالک سے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتا ہے تاکہ حالات مزید نہ بگڑیں۔ سعودی حکومت نے زور دیا کہ تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور باہمی حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے، اور یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ہر ممکن سفارتی تعاون فراہم کرے گا۔
دوسری جانب ایران نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر ملک کی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کا احترام ضروری ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عسکری کارروائیاں وقتی طور پر دشمن کو خاموش تو کر سکتی ہیں مگر دیرپا امن کے لیے سیاسی مکالمہ، سفارتی بصیرت اور باہمی اعتماد ناگزیر ہیں۔ پاکستان نے اپنے حصے کا کردار ادا کیا ہے، اب افغانستان کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔
پاکستان کے ردِعمل میں ایک بات واضح ہے کہ یہ لڑائی افغان عوام سے نہیں بلکہ ان دہشت گرد عناصر سے ہے جو سرحد پار بیٹھ کر پاکستان کے امن کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ افغان عوام پاکستان کے بھائی ہیں، مگر جب ان کی زمین دشمن قوتوں کے ہاتھ میں آ جاتی ہے تو یہ برادری خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
یہ لمحہ دونوں ممالک کے لیے غور و فکر کا ہے۔ اگر افغانستان اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کرے اور پاکستان کے ساتھ تعاون کرے تو خطے میں امن، ترقی اور باہمی احترام کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام جنگ نہیں، امن چاہتے ہیں۔ توپوں کی گھن گرج تھم جائے اور امن کی اذانیں دونوں جانب کی وادیوں میں گونجیں، یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی تاریخ کی پکار۔
یوسف صدیقی








