- Advertisement -

مِصری کی ڈلی

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

مِصری کی ڈلی

پچھلے دنوں میری روح اور میرا جسم دونوں علیل تھے۔ روح اس لیے کہ میں نے دفعتاً اپنے ماحول کی خوفناک ویرانی کو محسوس کیا تھا اورجسم اس لیے کہ میرے تمام پٹھے سردی لگ جانے کے باعث چوبی تختے کے مانند اکڑ گئے تھے۔ دس دن تک میں اپنے کمرے میں پلنگ پر لیٹا رہا۔ پلنگ۔ اس چیز کو پلنگ ہی کہہ لیجئے جو لکڑی کے چار بڑے بڑے پائیوں، پندرہ بیس چوبی ڈونڈوں اور ڈیڑھ دومن وزنی مستطیل آہنی چادر پر مشتمل ہے۔ لوہے کی یہ بھاری بھر کم چادر نواڑ اور سُوتلی کا کام دیتی ہے۔ اس پلنگ کا فائدہ یہ ہے کہ کھٹمل دور رہتے ہیں اور یوں بھی کافی مضبوط ہے، یعنی صدیوں تک قائم رہ سکتا ہے۔ یہ پلنگ میرے پڑوسی سلیم صاحب کا عنایت کردہ ہے۔ میں زمین پر سوتا تھا چنانچہ انھوں نے مجھے یہ پلنگ جو انھیں کے کمرے کے ساتھ ملا تھا مجھے دے دیا۔ تاکہ میں سخت فرش پر سونے کے بجائے لوہے کی چادر پر آرام کروں۔ سلیم صاحب اور ان کی بیوی کومیرا بہت خیال ہے اور میں ان کا بہت ممنون ہوں۔ اگر میں معمولی سے معمولی چارپائی بھی بازار سے لیتا تو کم از کم چار یا پانچ روپے خرچ ہو جاتے۔ خیر، چھوڑیئے اس قصّے کو۔ میں یہ بات کررہا تھا کہ پچھلے دنوں میری رُوح اور میرا جسم دونوں علیل تھے۔ دس دن اور دس راتیں میں نے ایسے خلا میں بسر کیں جس کی تفصیل میں بیان ہی نہیں کرسکتا۔ بس ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میں ہونے اور نہ ہونے کے بیچ میں کہیں لٹکا ہُوں۔ لوہے کے پلنگ پر لیٹے لیٹے یوں بھی میرا جسم بالکل شل ہو گیا تھا۔ دماغ ویسے ہی منجمد تھا جیسے یہ کبھی تھا ہی نہیں۔ میں کیا عرض کروں، میری کیا حالت تھی۔ دس دن اس ہیبت ناک خلا میں رہنے کے بعد میرے جسم کی علالت دُور ہو گئی۔ دس کا عمل تھا۔ دھوپ سامنے کارخانے کی بُلند چمنی سے پہلو بچاتی کمرے کے فرش پر لیٹ رہی تھی۔ میں لوہے کے پلنگ پر سے اُٹھا تھکے ہُوئے جسم میں انگڑائی سے حرکت پیدا کرنے کی کوشش کے بعد جب میں نے کمرے میں نگاہ دوڑائی تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ ر ہی۔ کمرہ وہ نہیں تھا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا۔ دائیں ہاتھ کونے میں ڈریسنگ ٹیبل تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا میز ہمارے کمرے میں ہُوا کرتا تھا مگر اس کا پالش اتنا چمکیلا کبھی نہیں تھا اور بناوٹ کے اعتبار سے بھی اس میں اتنی خوبیاں میں نے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ کمرے کے وسط میں جو بڑا میز پڑا رہتا تھا وہ بھی مجھے نامانوس معلوم ہوا۔ اس کا بالائی ہشت پہلو تختہ چمک رہا تھا۔ دیوار پر پانچ چھ تصویریں آویزاں تھیں جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ ان میں سے ایک تصویر میری نگاہ میں جم گئی۔ میں بڑھا اور اس کو قریب سے دیکھا۔ جدید فوٹو گرافی کا بہت عمدہ نمونہ تھا۔ ہلکے بُھوسلے رنگ کے کاغذ پر ایک جواں سال لڑکی کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ بال کٹے ہُوئے تھے اور کانوں پرسے اِدھر کواُڑ رہے تھے، سینہ سامنے سے ناف کے ننھے سے دباؤ تک ننگا۔ اس نرم و نازک عریانی کو اس کی گوری باہیں جو اسکے چہرے تک اُٹھی ہُوئی تھیں، چھپانے کی دلچسپ کوشش کررہی تھیں۔ پتلی پتلی لمبے لمبے ناخنوں والی انگلیوں میں سے چہرے کی حیا چھن چھن کر باہر آرہی تھی۔ کہنیوں نے ننھے سے پیٹ کے اختتامی خط پر آپس میں جڑ کر ایک دل کش تکون بنا دی تھی جس میں سے ناف کا گدگدا گڑھا جھانک رہا تھا۔ اگر اس چھوٹے سے گڑھے میں ڈنڈی گاڑ دی جاتی تو اس کا پیٹ سیب کا بالائی حصّہ بن جاتا۔ میں دیر تک اس نیم عُریاں و نیم مستور شباب کو دیکھتا رہا۔ مجھے حیرت تھی کہ یہ تصویر کہاں سے آگئی۔ اسی حیرت میں غرق میں غسل خانہ کی طرف بڑھا۔ کمرے کے چوتھے کونے میں نل کے نیچے فرش میں سل لگی ہُوئی ہے۔ اس کے ایک طرف چھوٹی سی منڈیر بنا دی گئی ہے۔ یہ جگہ جہاں جست کی ایک بالٹی، صابن دانی، دانتوں کے دو برش۔ داڑھی مونڈنے کے دو استرے، صابن لگانے کی دو کُوچیاں، منجن کی بوتل اور پانچ چھ استعمال شدہ اور زنگ آلود بلیڈ پڑے رہتے ہیں۔ ہمارا غسل خانہ ہے۔ نذیر صاحب جن کا یہ کمرہ ہے، علی الصبح بیدار ہونے کے عادی ہیں۔ چنانچہ داڑھی مونڈ کروہ فوراً ہی غسل سے فارغ ہو جاتے ہیں۔ میں سویا رہتا ہُوں اور وہ مزے سے ننگے نہاتے رہتے ہیں۔ اس غسل خانے کی طرف جاتے ہُوئے میں نے ایک بار پھر تمام چیزوں پر نگاہ دوڑائی۔ اب مجھے وہ کسی قدر مانوس معلوم ہُوئیں۔ منڈیر پر میرا اُسترا اور گھسا ہُوا بُرش اسی طرح پڑا تھا جس طرح میں روز دیکھا کرتا تھا، بالٹی بھی بلاشک و شبہ وہی تھی جو ہر روز نگاہوں کے سامنے آتی تھیں۔ اس میں ڈونگا بھی وہی تھا جس میں جا بجا گڑھوں میں میل جما رہتا تھا۔ منڈیر پر بیٹھ کر جب میں نے برش سے دانت گھسنے شروع کیے تو میں نے سوچا کمرہ وہی ہے جس میں ایک سو بیس راتیں میں گزار چکا ہوں۔ راتیں، میں نے غور کیا۔ معاملہ صاف ہو گیا۔ کمرے اور اس کی اشیا کے نامانوس ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ میں نے اُس میں صرف ایک سو بیس راتیں ہی گزاری تھیں۔ صبح سات یا آٹھ بجے جلدی جلدی کپڑے بدل کر جو میں ایک دفعہ باہر نکل جاتا تو پھر رات کو گیارہ بارہ بجے کے قریب ہی لوٹنا ہوتا تھا۔ اس صورت میں یہ کیوں کر ممکن تھا کہ مجھے کمرے کی ساخت اور اُس میں پڑی ہُوئی چیزوں کو دیکھنے کا موقع ملتا اور پھر نہ کمرہ میرا ہے اور نہ اس کی کوئی چیز میری ملکیت ہے اور یہ بھی تو سچی بات ہے کہ بڑے شہر انسانیت کے مرقد و مدفن ہوتے ہیں۔ میں جس ماحول میں چار مہینے سے زندگی بسر کررہا ہوں، اس قدر یکساں اور یک آہنگ ہے کہ طبیعت بارہا اُکتا گئی ہے جی چاہا ہے کہ یہ شہر چھوڑ کر کسی ویرانے میں چلا جاؤں۔ صبح جلدی جلدی نہانا۔ پھر عجلت میں کپڑے پہن کر دفتر میں کاغذ کالے کرتے رہنا، وہاں سے شام کو فارغ ہوکر ایک اور دفتر میں چھ سات گھنٹے اسی اُکتا دینے والے کام میں مصروف رہنا اور رات کے گیارہ بارہ بجے اندھیر ہی میں کپڑے اُتار کر سلیم کے دیئے ہُوئے آہنی پلنگ پر سونے کی کوشش کرنا۔ کیا یہ زندگی ہے؟ زندگی کیا ہے؟۔ یہ بھی میری سمجھ میں نہیں آتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اُونی جُراب ہے جس کے دھاگے کا ایک سرا ہمارے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ ہم اس جُراب کو ادھیڑتے رہتے ہیں جب ادھیڑتے ادھیڑتے دھاگے کا دوسرا سرا ہمارے ہاتھ میں آجائے گا تو یہ طلسم جسے زندگی کہا جاتا ہے ٹوٹ جائے گا۔ جب زندگی کے لمحات کٹتے محسوس ہُوں اور حافظے کی تختی پر کچھ نقش چھوڑ جائیں تو اس کایہ مطلب ہے کہ آدمی زندہ ہے اور اگر مہینوں گزر جائیں اور یہ محسوس تک نہ ہو کہ مہینے گزر گئے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان کی حسیات مُردہ ہو گئی ہیں۔ زندگی کی کتاب میں اگر اوپر تلے خالی اوراق ہی شامل ہوتے چلے جائیں تو کتنا دکھ ہوتا ہے۔ دوسروں کو بھی اس کا احساس ہوتا ہے یا کہ نہیں، اس کی بابت میں کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن میں تو اس معاملے میں بہت حساس ہوں۔ زندگی کی یہ خالی کاپی جو ہمارے ہاتھ میں تھمائی گئی ہے، آخر اسی لیے تو ہے کہ اس کے ہر ورق کو ہم استعمال کریں، اس پر کچھ لکھیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ مجھے کوئی ایسی بات ہی نہیں ملتی جس کے متعلق میں کچھ لکھوں۔ لے دے کے میری اس کاپی میں صرف دو تین ورق ایسے ہیں جن پر میں نقش و نگار بنے دیکھتا ہوں۔ یہ ورق مجھے کتنے عزیز ہیں۔ اگر آپ ان کو نوچ کر باہر نکال دیں تو میری زندگی ایک بیاباں بن جائے گی۔ آپ یقین کیجیے، میری زندگی واقعی چٹیل میدان کی طرح ہے جس میں اُن بیتے ہُوئے دنوں کی یاد ایک خوبصورت قبر کی طرح لیٹی ہُوئی ہے۔ چونکہ میں نہیں چاہتا کہ اچھے دنوں کی یہ سہانی یاد مٹ جائے اس لیے میں اس قبر پر ہروقت مٹی کا لیپ کرتا رہتا ہُوں۔ میرے سامنے دیوار پر ایک پرانا کلنڈر لٹک رہا ہے جس کے میلے کاغذ پر چیڑ کے لانبے لانبے درختوں کی تصویر چھپی ہے میں اسے ایک عرصے سے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہوں۔ اسکے پیچھے، دور، بہت دور مجھے اپنی زندگی کے اس کھوئے ہوئے ٹکڑے کی جھلک نظر آرہی ہے۔ میں ایک پہاڑی کے دامن میں چیڑوں کی چھاؤں میں بیٹھا ہوں۔ بیگو بڑے بھولے پن سے گھٹنے ٹیک کر اپنا سر میرے قریب لاتی ہے اور کہتی ہے۔

’’آپ مانتے ہی نہیں۔ سچ، میں بوڑھی ہو گئی ہوں۔ اب بھی یقین نہ آئیگا۔ یہ لیجیے میرے سر میں سفید بال دیکھ لیجیے۔ ‘‘

چودہ برس کی دیہاتی فضا میں پلی ہوئی جوان لڑکی مجھ سے کہہ رہی تھی کہ میں بوڑھی ہو گئی ہوں۔ معلوم نہیں وہ کیوں اس بات پر زور دینا چاہتی تھی۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی مرتبہ مجھ سے یہی بات کہہ چکی تھی۔ میرا خیال ہے کہ جو ان آدمیوں کو شباب کے دائرے سے نکل کر بڑہاپے کے دائرے میں داخل ہونے کی بڑی خواہش ہوتی ہے۔ یہ میں اس لیے کہتا ہوں کہ میرے دل میں بھی اس قسم کی خواہش کئی بار پیدا ہو چکی ہے۔ میں نے متعدد بار سوچا ہے کہ میری کنپٹیوں پر اگر سفید سفید بال نمودار ہو جائیں تو چہرے کی متانت اور سنجیدگی میں اضافہ ہو جائے گا۔ کنپٹیوں پر اگر بال سفید ہو جائیں تو چاندی کے مہین مہین تاروں کی طرح چمکتے ہیں اور دوسرے سیاہ بالوں کے درمیان بہت بھلے دکھائی دیتے ہیں، ممکن ہے بیگو کو یہی چاؤ ہو کہ اس کے بال سفید ہو جائیں اور وہ اپنی کم عمری کے باوجود بڈھی دکھائی دے۔ میں نے اُس کے خشک مگر نرم بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرنا شروع کی اور کہا۔

’’تم کبھی بوڑھی نہیں ہوسکتیں۔ ‘‘

اس نے سر اٹھا کر مجھ سے پوچھا۔

’’کیوں؟۔ میں کیوں بوڑھی نہیں ہوسکتی۔ ‘‘

’’اس لیے کہ تم میں آس پاس کے درختوں، پہاڑوں اور ان میں بہتے ہوئے نالوں کی ساری جوانی جذب ہو گئی ہے۔ ‘‘

وہ قریب سے قریب سرک آئی اور کہنے لگی۔

’’جانے آپ کیا اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہیں۔ بھئی میری سمجھ میں تو کچھ بھی نہیں آیا۔ درختوں اور پہاڑوں کی بھی کبھی جوانی ہوتی ہے۔ ‘‘

’’تمہاری سمجھ میں آئے نہ آئے پر میں نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔ ‘‘

’’بہت اچھا کیا آپ نے۔ پر آپ میرے بالوں میں اِس اِس طرح کرتے رہیں۔ ‘‘

بیگو نے اپنے ہاتھ سے سر کو کھجلاتے ہوئے کہا۔

’’مجھے بڑا مزہ آتا ہے۔ ‘‘

’’بہت اچھا جناب۔ ‘‘

کہہ میں نے انگلیوں سے اس کے بالوں میں کنگھی کرنا شروع کردی اور آنکھیں بند کرلیں۔ اس کو تو مزا آ ہی رہا تھا، مجھے خود مزا آنے لگا۔ میں یہ محسوس کرنے لگا کہ اس کے بال میرے اُلجھے ہوئے خیال ہیں جن کو میں اپنے ذہن کی انگلیوں سے ٹٹول رہا ہوں۔ دیر تک میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے مزا لیتی رہی۔ پھر اس نے اپنی خمار آلود نگاہیں میری طرف اٹھائیں اور نیند میں بھیگی ہوئی آواز میں کہا۔

’’میں اگر سو گئی تو؟‘‘

’’میں جاگتا رہوں گا۔ ‘‘

نیم خوابیدہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر پیدا ہوئی اور وہ زمین پر وہیں میرے سامنے لیٹ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد نیند نے اس کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ بیگو سو رہی تھی مگر اس کی جوانی جاگ رہی تھی۔ جس طرح سمندر کی پُر سکون سطح کے نیچے گرم لہریں دوڑتی رہتی ہیں، اس طرح اس کے محوِ خواب جسم کی رگوں میں اس کی گرم گرم جوانی دوڑ رہی تھی۔ بائیں بازو کو سر کے نیچے رکھے اور ٹانگوں کو اکٹھا کیے وہ سو رہی تھی۔ اسکا ایک بازو میری جانب سرکا ہوا تھا۔ میں اس کی پتلی انگلیوں کی مخروطی تراش دیکھ رہا تھا کہ ان میں خفیف سی کپکپاہٹ پیدا ہوئی جیسے مٹر کی پھلیاں ارتعاش پذیر ہو جائیں۔ یہ ارتعاش اس کی انگلیوں سے شروع ہوا اور اس کے سارے جسم پر پھیل گیا۔ جس طرح تالاب میں پھینکی ہوئی کنکری اس کی آبی سطح پر چھوٹا سا بھنور پیدا کرتی ہے اور یہ بھنور د ائرے بناتا ہوا پھیلتا جاتا ہے، اسی طرح وہ کپکپاہٹ اس کی انگلیوں سے شروع ہوکر اس کے سارے جسم پر پھیل گئی۔ نہ جانے اس کی جوانی کیسے ارتعاش پیدا کرنیوالے خواب دیکھ رہی تھی۔ اس کے نچلے ہونٹ کے کونوں میں خفیف سی تھرتھراہٹ کتنی بھلی معلوم ہوتی تھی۔ اس کے سینے کے ابھار میں دل کی دھڑکنیں زندگی پیدا کررہی تھیں۔ گریبان کے نچلے دو بٹن کھلے تھے، اس طرح جسم سے تھوڑی سی نقاب اُٹھ گئی تھی اور دو نہایت ہی پیاری قوسیں باہر جھانک رہی تھیں۔ سینے کی ننھی سی وادی میں دونوں طرف کے اُبھار بڑی خوبصورتی سے آپس میں گھل مل گئے تھے۔ میری نگاہ اس کے سینے پر کُرتے کی ایک طرف بنی ہوئی جیب پر رک گئی۔ اس میں خدا معلوم کیا کیا کچھ بیگو نے ٹھونس رکھا تھا کہ وہ ایک گیند سی بن گئی تھی۔ میرے دل میں دفعتاً یہ معلوم کرنے کا اشتیاق پیدا ہوا کہ اس میں کیا کیا چیزیں ہیں۔ آہستہ سے اس کی جیب کی تلاشی لینے کا ارادہ جب میں نے کیا تو وہ جاگ پڑی۔ سیدھی لیٹ کر اس نے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولیں۔ لمبی لمبی پلکیں جو آپس میں ملی ہوئی تھیں تھرتھرائیں۔ اس نے نیم باز آنکھوں سے میری طرف دیکھا، پھر اس کے ہونٹوں پر ہلکے سے تبسم نے انگڑائی لی اور کہا، آپ بڑے وہ ہیں؟‘‘

’’کیوں؟۔ میں نے کیا کیا ہے؟‘‘

وہ اُٹھ بیٹھی۔

’’ابھی آپ نے کچھ کیا ہی نہیں میں سچ مچ سو گئی اور آپ نے مجھے جگانے تک کی تکلیف نہ کی۔ میں اگر ایسے ہی شام تک سوئی رہتی تو۔ ؟‘‘

اس نے آنکھوں کی پتلیاں نچائیں اور دفعتاً کچھ یاد کرکے کہا۔

’’ہائے میرے اللہ۔ میں اپنی جان ہیر کو بھول ہی گئی۔ ‘‘

سامنے پہاڑی پر اگی ہوئی سبز جھاڑیوں کی طرف جب اس نے دیکھا تو اطمینان کا سانس لے کر کہنے لگی۔

’’کتنی اچھی ہے میری ہیر۔ ‘‘

اس کو اپنی بھینس کی فکر تھی جو ہمارے سامنے پہاڑی پر گھاس چر رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا۔

’’تمہاری ہیر تو موجود ہے پر رانجھا کہاں ہے؟‘‘

’’رانجھا؟‘‘

اُس کے لب مسکراہٹ کے ساتھ کھلے۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں اس نے مجھے کچھ بتانے کی کوشش کی اور پھر کِھل کھلا کر ہنس پڑی

’’رانجھا۔ رانجھا۔ رانجھا۔ ‘‘

اس نے یہ لفظ کئی مرتبہ دہرایا۔ میری ہیر کا رانجھا۔ مجھے کیا معلوم نگوڑا کہاں ہے؟‘‘

میں نے کہا۔

’’تمہاری ہیر کا کوئی نہ کوئی رانجھا تو ضرور ہو گا۔ مجھ سے چھپانا چاہتی ہو تو یہ الگ بات ہے۔ ‘‘

’’اس میں چھپانے کی بات ہی کیا ہے۔ ‘‘

بیگو نے آنکھیں مٹکا کر کہا۔

’’اور اگر کوئی ہے تو ہیر کو معلوم ہو گا۔ جاکے اس سے پوچھ لیجیے۔ پر کان میں کہیے گا، آہستہ سے کہیے گا، بتاؤ تو تمہارا رانجھا کہاں ہے؟‘‘

’’میں نے پوچھ لیا۔ ‘‘

’’کیا جواب ملا؟‘‘

’’بولی، بیگو سے پوچھو، وہی سب کچھ جانتی ہے۔ ‘‘

’’جھوٹ۔ جھوٹ۔ اس کا اوّل جھوٹ اس کا آخر جھوٹ۔ ‘‘

بیگو بچوں کی طرح اُچھل اُچھل کر کہنے لگی۔ ‘‘

میری ہیر تو بڑی شرمیلی ہے۔ ایسے سوالوں کا وہ کبھی جواب دے ہی نہیں سکتی۔ آپ جھوٹ بولتے ہیں۔ اس نے تو آپ کو غضے میں یہ کہا تھا، چلو ہٹو، کنواریوں سے ایسی باتیں کرتے تمہیں شرم نہیں آتی۔ ‘‘

’’یہی کہا تھا اور اس کا جواب اس کو یوں ملا تھا، یہ تمہارا اتنا بڑا بچھڑا کہاں سے آگیا ہے۔ کیا آسمان سے ٹپک پڑاتھاأ بیگو یہ بچھرے والی دلیل سن کر لاجواب ہو گئی۔ مگر وہ چونکہ لاجواب ہونا نہیں چاہتی تھی اس لیے اس نے بیکار چلانا شروع کردیا۔

’’جی ہاں آسمان ہی سے ٹپکا تھا اور سب چیزیں آسمان ہی سے تو آتی ہیں۔ نہیں، میں بھولی۔ اس بچھڑے کو تو میری ہیر نے گود لیا ہے۔ یہ اس کا بچہ نہیں کسی اور کا ہے۔ اب بتائیے آپ کے پاس کیا جواب ہے؟‘‘

میں نے ہار مان لی اس لیے کہ میری نگاہیں پھر اس کی اُبھری ہوئی جیب پر پڑیں جس میں خدا معلوم کیا کیا کچھ ٹھسا ہوا تھا۔

’’میں ہار گیا۔ آپ کی ہیر کنواری ہے، دنیا کی سب بھینسیں اور گائیں کنواریاں ہیں۔ میں کنوارا ہوں۔ آپ کنواری ہیں۔ لیکن یہ بتائیے کہ آپ کی اس کنواری جیب کو کیا ہو گیا ہے؟‘‘

اس نے اپنی پھولی ہوئی جیب دیکھی تو دانتوں میں انگلی دبا کر میری طرف ملامت بھری نظروں سے دیکھ کر کہا۔

’’آپ کو شرم نہیں آتی۔ کیا ہوا ہے میری جیب کو۔ میری چیزیں پڑی ہیں اس میں۔ ‘‘

’’چیزیں۔ اس سے تمہارا مطلب؟‘‘

’’آپ تو بال کی کھال نکالتے ہیں۔ چیزیں پڑی ہیں میرے کام کی اور کیا میں نے پتھر ڈال رکھے ہیں۔ ‘‘

’’تو جیب میں تمہارے کام کی چیزیں پڑی ہیں۔ میں پوچھ سکتا ہوں یہ کام کی چیزیں کیا ہیں؟‘‘

’’آپ ہرگز نہیں پوچھ سکتے۔ اور اگر آپ پوچھیں بھی تو میں نہیں بتاؤں گی اس واسطے کہ آپ نے مجھے اپنے چمڑے کے تھیلے کی چیزیں کب دکھائی ہیں۔ مگر اگر آپ سے کہوں بھی تو آپ کبھی نہ دکھائیں گے۔ ‘‘

’’میں ایک ایک چیز دکھانے کے لیے تیار ہوں۔ یہ رہا تھیلا۔ ‘‘

میں نے اپنا چرمی تھیلا اس کے سامنے رکھ دیا۔

’’خود کھول کر دیکھ لو پر یاد رہے مجھے اپنی جیب کی سب چیزیں تمہیں دکھانا پڑیں گی۔ ‘‘

’’پہلے میں اس ٰتھیلے کی تلاشی تو لے لوں۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے میرا تھیلا کھولا اور اس کی سب چیزیں ایک ایک کرکے باہر نکالنا شروع کیں۔ انگریزی کا ایک ناول، کاغذوں کا پیڈ، دو پنسلیں، ایک ربڑ، دس بارہ لفافے، آٹھ ایک ایک آنے والے اسٹامپ۔ دس بارہ خالی لفافے اور لکھے ہوئے کاغذوں کا ایک پلندہ۔ یہ میری

’’چیزیں‘‘

تھیں۔ ‘‘

جب وہ ایک ایک چیز اچھی طرح دیکھ چکی تو میں نے اس سے کہا۔

’’اب اپنی جیب کا منہ ادھر کردو۔ ‘‘

اس نے میری بات کا جواب نہ دیا۔ تھیلے میں تمام چیزیں رکھنے کے بعد اس نے مجھ سے تحکمانہ لہجہ میں کہا۔

’’اب اپنی جیب دکھائیے۔ ‘‘

میں نے اپنی جیب کا منہ کھول دیا۔ اور اس نے ہاتھ ڈال کر اس میں جو کچھ بھی تھا باہر نکال لیا، ایک بٹوہ اور چابیوں کا گُچھا تھا، جس میں چھوٹا سا چاقو بھی شامل تھا۔ یہ چاقو گُچھے میں سے نکال کر اس نے ایک طرف زمین پر رکھ دیا اور باقی چیزیں مجھے واپس دے دیں۔

’’یہ چاقو میں نے لے لیا ہے۔ کھیرے کاٹنے کے کام آئے گا۔ ‘‘

’’لے لو پر مجھے ٹالنے کی کوشش نہ کرو۔ میں جب تک تمہاری جیب کی ایک ایک چیز نہ دیکھ لوں چھوڑوں گا نہیں۔ ‘‘

’’اگر میں نہ دکھاؤں تو؟‘‘

’’لڑائی ہو جائے گی۔ ‘‘

’’ہو جائے۔ میں ڈر تھوڑی جاؤں گی۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ فوراً ہی اپنے دوپٹے کا تنبو بنا کر اس میں چھپ گئی اور جیب میں سے کچھ نکالنے لگی۔ اس پر میں نے رعب دار آواز کہا۔

’’دیکھو، یہ بات ٹھیک نہیں، تم کچھ چھپا رہی ہو۔ ‘‘

’’آپ مان لیجیے، میں سب کچھ دکھا دوں گی۔ اللہ کی قسم سب چیزیں ایک ایک کرکے دکھا دوں گی۔ یہ تو میں اپنے من سمجھوتے کے لیے کچھ کررہی ہوں۔ ‘‘

میں نے پھر رعب دار آواز میں کہا۔

’’کیا کررہی ہو۔ میں تمہاری سب چالاکیاں سمجھتا ہوں۔ سیدھے من سے تمام چیزیں دکھا دو ورنہ میں زبردستی سب کچھ دیکھ لوں گا۔ ‘‘

تھوڑی دیر کے بعد وہ دوپٹے سے باہر نکل آئی اور آگے بڑھ کر کہنے لگی۔

’’دیکھ لیجیے!‘‘

میں اس کی جیب میں ہاتھ ڈالنے ہی والا تھا کہ اس کے تنے ہوئے سینے کو دیکھ کر رک گیا۔

’’تم خود ہی ایک ایک چیز نکال کر مجھے دکھاتی جاؤ۔ لو اتنا لحاظ میں تمہارا کیے دیتا ہوں۔ یوں تمہاری ایمانداری بھی معلوم ہو جائے گی۔ ‘‘

’’نہیں، آپ خود نکالتے جائیے، بعد میں آپ کہیں گے میں نے سب چیزیں نہیں دکھائیں۔ ‘‘

’’میں دیکھ جو رہا ہوں۔ تم نکالتی جاؤ۔ ‘‘

’’جیسے آپ کی مرضی‘‘

یہ کر اس نے آہستہ سے اپنی جیب میں دو انگلیاں ڈالیں اور سرخ رنگ کے ریشمین کپڑے کا ایک ٹکڑا باہر نکالا۔ اس پر میں نے پوچھا۔

’’کپڑے کا یہ بیکار سا ٹکڑا تم ساتھ ساتھ کیوں لیے پھرتی ہو؟‘‘

’’اجی آپ کو کیا معلوم، یہ بہت بڑھیا کپڑا ہے۔ میں اس کا رومال بناؤنگی۔ جب بن جائے گا تو پھر آپ دیکھیے گا۔ جی ہاں۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے کپڑے کا ٹکڑا اپنی جھولی میں رکھ دیا۔ پھر جیب سے کچھ نکالا اور بند مٹھی میرے بہت قریب لا کر کھول دی۔ سلولائڈ کے تین مستعمل کلپ، ایک چابی اور سیپ کے دو بٹن اس کی ہتھیلی پر مجھے نظر آئے۔ میں اس سے کہا۔

’’یہ اپنی جھولی میں رکھ لو اور باقی چیزیں جلدی جلدی نکالو۔ ‘‘

اس نے جیب میں جلدی جلدی ہاتھ ڈال کر باری باری یہ چیزیں باہر نکالیں۔ سفید دھاگے کی گولی اس میں پھنسی ہوئی زنگ آلود سوئی، لکڑی کی میلی کچیلی کنگھی، چھوٹا سا ٹوٹا ہوا آئینہ اور ایک پیسہ۔ میں نے اُس سے پوچھا۔

’’کوئی اور چیز باقی تو نہیں رہی؟‘‘

’’جی نہیں۔ ‘‘

اس نے اپنے سر کو جنبش دی، میں نے سب چیزیں آپکے سامنے رکھ دی ہیں۔ اب کوئی باقی نہیں رہی۔

’’غلط‘‘

میں نے اپنا لہجہ بدل کر کہا۔

’’تم جھوٹ بولتی ہو اور جھوٹ بھی ایسا بولتی ہو جو بالکل کچا ہو، ابھی ایک چیز باقی ہے۔ ‘‘

جونہی یہ لفظ میرے منہ سے نکلے، غیر ارادی طور پر اس کی نگاہیں یک لخت اپنے دوپٹے کی طرف مڑیں۔ میں نے تاڑ لیا کہ اس نے کچھ چھپا رکھا ہے۔

’’بیگو، سیدھے من سے مجھے یہ چیز دکھا دو جو تم نے چھپائی ہے، ورنہ یاد رکھو وہ تنگ کروں گا کہ عمر بھریاد رکھو گی۔ گُدگُدی ایسی چیز ہے کہ۔ ‘‘

گُدگُدی کے تصور ہی نے اس کے جسم کو اکٹھا کردیا۔ وہ سکڑ سی گئی۔ اس پر میں نے ہوا میں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں نچائیں۔

’’یہ انگلیاں ایسی گدگدی کرسکتی ہیں کہ جناب کو پہروں ہوش نہ آئے گا۔ ‘‘

وہ کچھ اس طرح سمٹی جیسے کسی نے بُلندی سے ریشمی کپڑے کا تھان کھول کر نیچے پھینک دیا ہے۔

’’نہیں، نہیں۔ خدا کے لیے کہیں ایسا کر بھی نہ دیجیے گا۔ میں مر جاؤں گی۔ ‘‘

جب میں سچ مچ اپنے ہاتھ اس کے کندھوں تک لے گیا تو وہ بے تحاشا چیختی، ہنستی اور سمٹتی سمٹاتی اُٹھی اور بھاگ گئی۔ دوپٹے میں سے کوئی چیز گری جو میں نے دوڑ کر اٹھالی۔ مِصری کی ایک ڈلی تھی جو وہ مجھ سے چھپا رہی تھی۔ جانے کیوں؟

سعادت حسن منٹو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو