- Advertisement -

بارِ گراں کا ماجرا چلتا رہا تھا رات بھر

ایک اردو غزل از ناصر ملک

بارِ گراں کا ماجرا چلتا رہا تھا رات بھر

دشتِ جنوں میں اِک دیا جلتا رہا تھا رات بھر

 

تھا ساز محوِ جستجو تشنہ لبی سے ہار کر

دل رفتہ رفتہ گیت میں ڈھلتا رہا تھا رات بھر

 

تب مضطرب تھا اُس گھڑی دیدہ وری کا ذوق بھی

اک پھول بوتل میں پڑا گلتا رہا تھا رات بھر

 

سب ڈگمگاتے ذہن اپنے آپ سے غافل رہے

اور دل جلوں کا جام بھی چلتا رہا تھا رات بھر

 

پھر سو گیا تھا وقت کا سورج ہتھیلی پر مری

جو حسرتوں کے خون میں پلتا رہا تھا رات بھر

 

ناصر جو فیضِ عشق تھا قلب و جگر کا سانحہ

ماتھے پہ ہجر کا لہو ملتا رہا تھا رات بھر

 

ناصر ملک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از ناصر ملک