اردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ

یہی ہے اجرت یہی کمائی ہمارا حصہ

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

یہی ہے اجرت یہی کمائی ہمارا حصہ
ہر اک اذیت میں دو تہائی ہمارا حصہ

ہمیں وراثت میں صبر کرنے کا کہہ رہے ہیں
جھگڑ کے کیسے کہیں کہ بھائی ہمارا حصہ

مجھے گلی کے جو ایک بچے پہ پیار آیا
پکڑ کے کہنے لگے کلائی ہمارا حصہ

ادھر وہ لوگوں میں بانٹ آیا وفائیں ساری
ادھر محبت میں بے وفائی ہمارا حصہ

ہمیں نئے خواب سکہ سکہ عطا ہوئے ہیں
وہ چھین لیتا ہے پائی پائی ہمارا حصہ

کومل جوئیہ

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button