آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفرید احمد

داد کب ضبطِ مسلسل پہ

فرید احمد کی ایک اردو غزل

داد کب ضبطِ مسلسل پہ ہے درکار مجھے
بس، مرے حال میں رہنے دے مرے یار مجھے

بے زبانی پہ نہ دے طعنہء گفتار مجھے
لب کشائی نہ مری کردے شرربار مجھے

اجنبیت ہے، تغافل ہے کہ ہنگامِ جنوں
آئنہ پیشِ نظر صورتِ اغیار مجھے

مجھ پہ ظاہر ہی نہیں میرے عدو کا باطن
ہے طرفدار شناسی بھی، طرفدار مجھے

ابرِ باراں نے تکلف ہی اٹھایا، ورنہ
تھا تسلی کو بہت سایہء دیوار مجھے

کرب نے کاٹ دی ہیں کرب شناسی کی رگیں
راحتِ جان میسر ہے سرِ دار مجھے

نگہِ نادم کو مری محوِ تماشا نہ سمجھ
حدتِ دشت ہے شادابیء گلزار مجھے

یوں سرِ راہ وفا باعثِ عبرت ہوگی
یوں سرِ راہ نہ کر یار تُو مسمار مجھے

زخمِ گفتار کہاں طالبِ مرہم ہیں فریدؔ
رائگانی ہے مسیحاؤں سے اصرار مجھے

فریدؔ احمد دیو

post bar salamurdu

فرید احمد

فرید احمد دیو - قلمی نام : فرید احمد - ڈالووالی سیالکوٹ پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button