داد کب ضبطِ مسلسل پہ ہے درکار مجھے
بس، مرے حال میں رہنے دے مرے یار مجھے
بے زبانی پہ نہ دے طعنہء گفتار مجھے
لب کشائی نہ مری کردے شرربار مجھے
اجنبیت ہے، تغافل ہے کہ ہنگامِ جنوں
آئنہ پیشِ نظر صورتِ اغیار مجھے
مجھ پہ ظاہر ہی نہیں میرے عدو کا باطن
ہے طرفدار شناسی بھی، طرفدار مجھے
ابرِ باراں نے تکلف ہی اٹھایا، ورنہ
تھا تسلی کو بہت سایہء دیوار مجھے
کرب نے کاٹ دی ہیں کرب شناسی کی رگیں
راحتِ جان میسر ہے سرِ دار مجھے
نگہِ نادم کو مری محوِ تماشا نہ سمجھ
حدتِ دشت ہے شادابیء گلزار مجھے
یوں سرِ راہ وفا باعثِ عبرت ہوگی
یوں سرِ راہ نہ کر یار تُو مسمار مجھے
زخمِ گفتار کہاں طالبِ مرہم ہیں فریدؔ
رائگانی ہے مسیحاؤں سے اصرار مجھے
فریدؔ احمد دیو








