آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعرینسیم شاہانہ سیمیں
خوشبو سے وادیوں کو مہک جانا چاہیے
نسیم شاہانہ کی ایک اردو غزل
خوشبو سے وادیوں کو مہک جانا چاہیے
اس رہ گزر پہ دور تلک جانا چاہیے
اچھی نہیں یہ بات مرے دوستو سنو
،لیکن کبھی کبھار بہک جانا چاہیے ،
اس حسن بے مثال کی اب دیکھ کر جھلک
تاریکیوں کو خود ہی چمک جانا چاہیے
تھا جس کا انتظار وہ محفل میں آ گیا
ہاتھوں سے اب تو جام چھلک جانا چاہیے
اتری ہے آج چاندنی دھرتی پہ اے نسیم
تاروں سے آسماں کو دمک جانا چاہیے
نسیم شاہانہ







