- Advertisement -

تمہاری ذات کا پہلے گماں کوئی نہیں تھا

طارق جاوید کی ایک اردو غزل

تمہاری ذات کا پہلے گماں کوئی نہیں تھا
ہمارا کن سے پہلے رازداں کوئی نہیں تھا

بڑی خوش فہمیاں تھیں ساتھ ہیں احباب لیکن
جو پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا

ٹھکانہ مل گیا ہم کو تمہارے دل میں آخر
کہ اس سے قبل تو اپنا مکاں کوئی نہیں تھا

مجھے آوارگی نے جا کے چھوڑا اُس جگہ پر
مسلسل برف باری تھی دھواں کوئی نہیں تھا

خلاف اپنے وہاں میں بدگماں خود ہی کھڑا تھا
مرے بارے وہاں پر بدگماں کوئی نہیں تھا

تھکن کی دھوپ سے بچ کر نکلتا میں بھی طارق
محبت کا مرے سر سائباں کوئی نہیں تھا

طارق جاوید

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شیخ خالد زاہد کا اردو کالم