- Advertisement -

چلو پھر آج کھو جائیں

ایک نظم از حسن فتحپوری

تمھارے ساتھ پھر لمبے سفر پر آج ہم نکلے
کئی ماضی کی یادیں آج پھر ہمراہ ہیں اپنے

یہ ٹیڑھے میڑھے رستے ہیں کہ تم اٹھلا کے چلتی ہو
یہ اُنچے پربتو پہ بادلوں کے نرم سائے ہیں
مجھے لگتا ہے ہر جانب تمھاری زلف بکھری ہے

مرے چہرے پہ بارش کی جو ہلکی بوند پڑتی ہے
تو لگتا ہے تمھاری بھیگی زلفوں کا یہ پانی ہے

یہ ہلکا سرد سا موسم
تمہیں نزدیک لانے کے لیے مجبور کرتا ہے
تمھارے جسم کی گرمی
یہ لگتا ہے کہ ہر سو آگ بکھری ہے

چلو پھر آج کھو جائیں
انہوں رنگیں نظاروں میں

حسن فتحپوری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک نظم از حسن فتحپوری