آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریشہباز خواجہ
ہزار ڈھونڈیں گے، اہلِ جہاں نہیں رہے گا
شہباز خواجہ کی ایک اردو غزل
ہزار ڈھونڈیں گے، اہلِ جہاں نہیں رہے گا
مسافرانِ عدم کا نشاں نہیں رہے گا
کنارِ چشم سے پھوٹے گی روشنی کی کرن
فلک پہ چاند اگر ضوفشاں نہیں رہے گا
یہ دشت آپ سنائے گا داستاں میری
میرا قیام یہاں رائیگاں نہیں رہے گا
یہ اختیار ہواؤں کو کون دیتا ہے؟
کہاں چراغ رہے گا، کہاں نہیں رہے گا
اگر یہ جبر کے سائے کچھ اور ساتھ رہے
زمیں رہے نہ رہے، آسماں نہیں رہے گا
میں ایک پیڑ کے سائے میں بھی سلگتا ہوں
جو سوچتا ہوں کہ یہ سائبان نہیں رہے گا
شہباز خواجہ








