اردو غزلیاتشعر و شاعریمصطفٰی خان شیفتہ

جب رقیبوں کا ستم یاد آیا

مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل

جب رقیبوں کا ستم یاد آیا
کچھ تمہارا بھی کرم یاد آیا

کب ہمیں حاجتِ پرہیز پڑی
غم نہ کھایا تھا کہ سم یاد آیا

نہ لکھا خط کہ خطِ پیشانی
مجھ کو ہنگامِ رقم یاد آیا

شعلۂ زخم سے اے صید فگن
داغِ آہوئے حرم یاد آیا

ٹھیرے کیا دل کہ تری شوخی سے
اضطرابِ پئے ہم یاد آیا

خوبیِ بخت کہ پیمانِ عدو
اس کو ہنگامِ قسم یاد آیا

کھل گئی غیر سے الفت اس کی
جام مے سے مجھے جم یاد آیا

وہ مرا دل ہے کہ خود بینوں کو
دیکھ کر آئینہ کم یاد آیا

کس لئے لطف کی باتیں ہیں پھر
کیا کوئی اور ستم یاد آیا

ایسے خود رفتہ ہو اے شیفتہ کیوں
کہیں اس شوخ کا رم یاد آیا

مصطفیٰ خان شیفتہ

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button