آپ کا سلاماردو شاعریاردو نظمسلمیٰ سیّد

شب ہجراں 

سلمیٰ سیّد کی ایک اردو نظم

شب ہجراں 

اے شب ہجراں زرا نزدیک آ

ہم بھی تو دیکھیں

 تیرے دامن میں کیا آسیب ہیں

لوٹتی ہے کس طرح تو ایک انساں کا سکوں

کاٹتی ہے یا کٹی جاتی ہے اسکی زندگی

چل چلی آئی ہے اب تو بیٹھ جا اور یہ بتا

دن میں تیرے کیا مشاغل اور کیا معمول ہیں

آ کبھی دن میں نکل کر دیکھ ہم لوگوں کے دکھ

کس اداکاری کی چادر تان کہ ہر درد کو

اپنی آنکھوں کی نمی کو روند کر ہنستے ہوئے

اس خرابے میں یقین و بے یقیں کے درمیاں

ان سبھی رشتوں کے بیچوں بیچ ہم مسرور سے

تیرے ہر آسیب کو تہہ کرکے رکھ دیتے ہیں ہم

دیکھ لو دلشاد ہیں یہ سب سے کہہ دیتے ہیں ہم

اے شب ہجراں زرا نزدیک آ

آ اب اپنی آنکھ میں تجھ کو سمونا ہے مجھے

ہنس چکی دن بھر اکیلی ہوں سو رونا ہے مجھے

سلمیٰ سیّد

سلمیٰ سیّد

قلمی نام سلمیٰ سید شاعری کا آغاز۔۔ شاعری کا آغاز تو پیدائش کے بعد ہی سے ہوگیا تھا اسوقت کے بزرگوں کی روایت کیمطابق گریہ بھی خاص لے اور ردھم میں تھا۔۔ طالب علمی کے زمانے میں اساتذہ سے معذرت کے ساتھ غالب اور میر کی بڑی غزلیں برباد کرنے کے بعد تائب ہو کر خود لکھنا شروع کیا۔ناقابل اشاعت ہونے کے باعث مشق ستم آج تلک جاری ہے۔اردو مادری زبان ہے مگر بہت سلیس اردو میں لکھنے کی عادی ہوں۔ میری لکھی نظمیں بس کچھ کچے پکے سے خیال ہیں میرے جنھیں آج آپ کے ساتھ بانٹنے کا ایک قریبی دوست نے مشورہ دیا۔۔ تعلیمی قابلیت بی کام سے بڑھ نہ سکی افسوس ہے مگر خیر۔۔مشرقی گھریلو خاتون ایسی ہی ہوں تو گھر والوں کے لیے تسلی کا باعث ہوتی ہیں۔۔ پسندیدہ شعراء کی طویل فہرست ہے مگر شاعری کی ابتدا سے فرحت عباس شاہ کے متاثرین میں سے ہوں۔۔ شائد یہی وجہ ہے میری نظمیں بھی آزاد ہیں۔۔ خوبصورت شہر کراچی سے میرا تعلق اور محبت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button