آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریصائمہ کامران

یادوں کی کتابوں سے

سیدہ صائمہ کامران کی ایک اردو غزل

یادوں کی کتابوں سے ذرا گرد جھڑی ہے
لو سامنے اک اور قیامت کی گھڑی ہے

وہ مجھ سے مخاطب تھا مگر سرد تھا لہجہ
کیا شہرِ محبت میں کہیں برف پڑی ہے

جنموں کا تراساتھ کہاں مانگ رہے ہیں
ہم کو تو محبت کی یہ ساعت ہی بڑی ہے

آنسو جو ںڑی دیر سے ٹھہرا ہے پلک پر
لگتا ہے کسی دورِ ندامت کی کڑی ہے

برسات کی بوندیں یہ سلگتا ہوا آنچل
یاں حشر بپا ہے تمہیں دفتر کی پڑی ہے؟

آنکھوں کی شرارت سے کوئی خواب نہ جاگے
یہ کھیل تو اچھا ہے مگر شرط کڑی ہے

سیدہ صائمہ کامران

post bar salamurdu

صائمہ کامران

شاعرہ، بچوں کی ادیبہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی سلیبس ڈیزائنر،کالم نویس،بین الاقوامی چینلز کی اینکر پرسن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button