یادوں کی کتابوں سے ذرا گرد جھڑی ہے
لو سامنے اک اور قیامت کی گھڑی ہے
وہ مجھ سے مخاطب تھا مگر سرد تھا لہجہ
کیا شہرِ محبت میں کہیں برف پڑی ہے
جنموں کا تراساتھ کہاں مانگ رہے ہیں
ہم کو تو محبت کی یہ ساعت ہی بڑی ہے
آنسو جو ںڑی دیر سے ٹھہرا ہے پلک پر
لگتا ہے کسی دورِ ندامت کی کڑی ہے
برسات کی بوندیں یہ سلگتا ہوا آنچل
یاں حشر بپا ہے تمہیں دفتر کی پڑی ہے؟
آنکھوں کی شرارت سے کوئی خواب نہ جاگے
یہ کھیل تو اچھا ہے مگر شرط کڑی ہے
سیدہ صائمہ کامران








