A True Salam To Urdu Literature

Sirf Awaaz Ka Faasla Tha

A Ghazal By Munir Jafri

صرف آواز کا فاصلہ تھا
وہ وگرنہ برابر کھڑا تھا

پھول بھیجے نہیں جا سکے تھے
بیگ میں خط پڑے رہ گئے تھے

بیل دیوار سے بڑھ گئی تھی
رابطہ بوجھ بننے لگا تھا

خود کو عجلت میں آدھا سمیٹا
وقت سے پہلے چلنا پڑا تھا

دیر سے سوچنے کی سزا میں
دور تک سوچنا پڑ۔گیا تھا

تیری تصویر سے گفتگو کی
اور دیوار کو در کیا تھا

زندگی کھانستی تھی رگوں میں
سانس نے جسم کو پی لیا تھا

منیر جعفری

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Recommended Salam
A Ghazal By Munir Jafri