آپ کا سلاماردو نظمسلمیٰ سیّدشعر و شاعری

‏تم اب جو لکھنا 

سلمیٰ سیّد کی ایک اردو نظم

‏تم اب جو لکھنا 

 تم اب جو لکھنا

 تو موسموں کی اداس آنکھوں میں خواب لکھنا

 کہیں کسی کے اجاڑ رستوں پہ روشنی کے گلاب لکھنا

 سیاہ راتوں سے خوف کھا کر دبک نہ جانا

 نئی صبح کی نزاکتوں پر طہارتوں کا نصاب لکھنا

 تم اب جو لکھنا

 تو مسکرا کے تمام شکووں کی سرزمیں کے گلے مٹانا

‏وہ پھول اصلی یا کاغذی ہوں گلے لگانا

 تم اپنی چاہت کی خوشبوؤں سے انھیں منانا

 میں چاہتی ہوں تم اب جو لکھنا

 تو مجھ کو اپنا رفیق لکھنا

 گزشتہ صدیوں کی ضد بھلانا

 نئے سرے سے محبتوں کے دیئے جلا نا

‏تم میری پوروں سے زندگی کی نوید لینا

رفاقتوں کی حسین لے پر محبتوں کی کتاب لکھنا

 تم اب جو لکھنا

سلمیٰ سیّد

post bar salamurdu

سلمیٰ سیّد

قلمی نام سلمیٰ سید شاعری کا آغاز۔۔ شاعری کا آغاز تو پیدائش کے بعد ہی سے ہوگیا تھا اسوقت کے بزرگوں کی روایت کیمطابق گریہ بھی خاص لے اور ردھم میں تھا۔۔ طالب علمی کے زمانے میں اساتذہ سے معذرت کے ساتھ غالب اور میر کی بڑی غزلیں برباد کرنے کے بعد تائب ہو کر خود لکھنا شروع کیا۔ناقابل اشاعت ہونے کے باعث مشق ستم آج تلک جاری ہے۔اردو مادری زبان ہے مگر بہت سلیس اردو میں لکھنے کی عادی ہوں۔ میری لکھی نظمیں بس کچھ کچے پکے سے خیال ہیں میرے جنھیں آج آپ کے ساتھ بانٹنے کا ایک قریبی دوست نے مشورہ دیا۔۔ تعلیمی قابلیت بی کام سے بڑھ نہ سکی افسوس ہے مگر خیر۔۔مشرقی گھریلو خاتون ایسی ہی ہوں تو گھر والوں کے لیے تسلی کا باعث ہوتی ہیں۔۔ پسندیدہ شعراء کی طویل فہرست ہے مگر شاعری کی ابتدا سے فرحت عباس شاہ کے متاثرین میں سے ہوں۔۔ شائد یہی وجہ ہے میری نظمیں بھی آزاد ہیں۔۔ خوبصورت شہر کراچی سے میرا تعلق اور محبت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button