- Advertisement -

بے آواز

راز احتشام کی ایک اردو نظم

بے آواز

عجیب دن تھے
جب ایک آواز چہچہاتی
سماعتوں کو یقیں دلاتی
کہ زندگی اپنے سارے رنگوں میں ہنس رہی ہے
وہ تیز بارش میں ٹین کی چھت پہ بجتے سازوں کو جانتی تھی
وہ جانتی تھی کہ نیند کتنی دھنوں سے بنتی ہے
خستہ کوزوں کی کھنکھناہٹ بھرا وہ لہجہ لیے
یہ کہتی
کہ “آپ۔۔ اپنا خیال رکھیے”
تو چار سُو اک دھنک ابھرتی
کہ جس کی رنگین اوڑھنی پر میں گال رکھتا
تو نیند۔۔ خوابوں بھرے دریچوں میں لے کے جاتی
میں بے یقینی میں خواب بُنتا اُدھیڑتا تھا
یہ نیم خوابی بھی اس کی آواز کا فسوں تھا

عجیب دن تھے !

اسے کوئی ممکنہ جدائی
اداس کرتی
تو ایسا لگتا
کہ جیسے دھرتی پہ آخری شخص
سسکیاں لے کے رو رہا ہے !

اور آج کے دن
مری سماعت سے بے یقینی کی خواب آلود دھند چھٹنے سے پیشتر ہی
اک اجنبی ہاتھ
خستہ کوزوں کے ٹوٹنے کی
کھنکتی آواز
لے اڑا ہے !

راز احتشام

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
راز احتشام کی ایک اردو نظم