آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

کیسے شہروں کو فنا کرتا ہوا گزرا تھا

سعید شارق کی ایک اردو غزل

کیسے شہروں کو فنا کرتا ہوا گزرا تھا
میرے سینے سے کبھی دشت بلا گزرا تھا

ایک پتھر تھا فقط مجھ کو کچلنے کے لیے
ایک لمحہ تھا جو اوروں سے جدا گزرا تھا

دھول کس وقت کی ہے یہ تو نہیں ہے معلوم
بس یہی یاد ہے اک قافلہ سا گزرا تھا

اک نظر پڑتے ہی دو لخت ہوا خواب مرا
کیسا شہکار تھا اور کتنا گیا گزرا تھا

یہ سلگتی ہوئی شاخیں یہ جھلستے ہوئے پھول
موجۂ آہ تھا جو مثل ہوا گزرا تھا

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button