اردو غزلیاتذوالفقار عادلشعر و شاعری

شکر کیا ہے ان پیڑوں نے صبر کی عادت ڈالی ہے

ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل

شکر کیا ہے ان پیڑوں نے صبر کی عادت ڈالی ہے

اس منظر سے دیکھو بارش ہونے والی ہے

سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گے

اب کونے میں ڈھیر لگا ہے باقی کمرا خالی ہے

بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ

موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلا لی ہے

اپنی مرضی سے سب چیزیں گھومتی پھرتی رہتی ہیں

بے ترتیبی نے اس گھر میں اتنی جگہ بنا لی ہے

دیر سے قفل پڑا دروازہ اک دیوار ہی لگتا تھا

اس پر ایک کھلے دروازے کی تصویر لگا لی ہے

ہر حسرت پر ایک گرہ سی پڑ جاتی تھی سینے میں

رفتہ رفتہ سب نے مل کر دل سی شکل بنا لی ہے

اوپر سب کچھ جل جائے گا کون مدد کو آئے گا

جس منزل پر آگ لگی ہے سب سے نیچے والی ہے

اک کمرا سایوں سے بھرا ہے اک کمرا آوازوں سے

آنگن میں کچھ خواب پڑے ہیں ویسے یہ گھر خالی ہے

پیروں کو تو دشت بھی کم ہے سر کو دشت نوردی بھی

عادلؔ ہم سے چادر جتنی پھیل سکی پھیلا لی ہے

ذوالفقار عادل

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button