آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمنزہ سحر

اٹھائے رنج کئی خود کو آزماتے ہوئے

منزہ سحر کی ایک اردو غزل

اٹھائے رنج کئی خود کو آزماتے ہوئے
میں کتنی بار ہنسی کرچیاں اٹھاتے ہوئے۔

میں روتے روتے رکی اور اس کو تکنے لگی
وہ اتنا پیارا لگا قہقہہ لگاتے ہوئے۔

ستم ظریف قبیلے نے کر دیا عادی
کہاں برا تھا کہ ہم جیتے مسکراتے ہوئے۔

فضا میں تتلیاں رنگوں سے ہمکلام ہوئیں
تمہارا نام لیا ہے نظر جھکاتے ہوئے۔

میں آسماں کے کناروں پہ جا کے سوچ میں ہوں
ستارے ٹوٹ نہ جائیں زمیں پہ لاتے ہوئے۔

تو مجھ کو لگتا ہے اب آسماں گرا کہ گرا
کبھی جو سوچوں تجھے خود سے دور جاتے ہوئے۔

کسی کی یاد کی حدت ہے یہ منزہ سحر
دیے سے آنکھوں میں جلتے ہیں جھلملاتے ہوئے

منزہ سحر

post bar salamurdu

منزہ سحر

لاہور، پاکستان - شاعرہ، مترجم اور تبصرہ نگار اردو، انگریزی، پنجابی دو شعری مجموعے 1."روشنی" اور 2. "خوبصورت" 3.ایک عدد اردو سفرنامے کا انگریزی ترجمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button