اٹھائے رنج کئی خود کو آزماتے ہوئے
میں کتنی بار ہنسی کرچیاں اٹھاتے ہوئے۔
میں روتے روتے رکی اور اس کو تکنے لگی
وہ اتنا پیارا لگا قہقہہ لگاتے ہوئے۔
ستم ظریف قبیلے نے کر دیا عادی
کہاں برا تھا کہ ہم جیتے مسکراتے ہوئے۔
فضا میں تتلیاں رنگوں سے ہمکلام ہوئیں
تمہارا نام لیا ہے نظر جھکاتے ہوئے۔
میں آسماں کے کناروں پہ جا کے سوچ میں ہوں
ستارے ٹوٹ نہ جائیں زمیں پہ لاتے ہوئے۔
تو مجھ کو لگتا ہے اب آسماں گرا کہ گرا
کبھی جو سوچوں تجھے خود سے دور جاتے ہوئے۔
کسی کی یاد کی حدت ہے یہ منزہ سحر
دیے سے آنکھوں میں جلتے ہیں جھلملاتے ہوئے
منزہ سحر








