جامعات میں داخلوں میں کمی اور معیار کی گراوٹ
پنجاب کی سرکاری جامعات میں اس برس داخلوں میں غیر معمولی کمی محض ایک تعلیمی اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہری اور خطرناک حقیقت کا عکس ہے۔ بڑے تعلیمی اداروں میں بیس سے تیس فیصد تک طلبہ کی کمی اور چھوٹے شہروں کے کیمپسز میں اس سے بھی زیادہ کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ اعلیٰ تعلیم اب تیزی سے عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف تعلیمی معیار بلکہ سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ یہ منظرنامہ ہمیں ماضی کی طرف جھانکنے پر مجبور کرتا ہے، جب علم کا چراغ کم وسائل کے باوجود روشن رہتا تھا اور تعلیم کو عزت، وقار اور کردار سازی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔
معاشی دباؤ اس بحران کی سب سے بڑی وجہ کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ٹیوشن فیس اگرچہ نسبتاً کم ہے لیکن ہاسٹل، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ کے تعلیمی اخراجات نے متوسط اور غریب گھرانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا خواب دھندلا دیا ہے۔ نتیجتاً بہت سے والدین اپنے بچوں کو تعلیم جاری رکھنے کے بجائے فوری روزگار کی طرف مائل کر دیتے ہیں تاکہ گھر کے اخراجات پورے ہو سکیں۔ یہ وقتی حل معاشرے کے لیے طویل المدتی نقصان کا پیش خیمہ ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب قوموں نے تعلیم کو قربان کیا تو آنے والی نسلوں نے اپنی پہچان، قوت اور وقار کھو دیا۔
اس کے ساتھ ہی فرسودہ نصاب اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان بڑھتا ہوا خلا بھی طلبہ کے لیے مایوسی کا باعث ہے۔ آج کی دنیا عملی مہارت، ڈیجیٹل علم اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ تربیت کا مطالبہ کرتی ہے، مگر ہمارے تعلیمی پروگرام اب بھی ماضی کی روایات سے جکڑے ہوئے ہیں۔ کبھی یہی پنجاب یونیورسٹی اور دیگر ادارے ایسے ایم اے پاس طلبہ پیدا کرتے تھے جن کا علمی معیار اتنا بلند تھا کہ وہ دنیا کے کسی کونے میں اپنی پہچان بنا سکتے تھے۔ آج بی ایس کے نام پر ڈگریاں تو دی جا رہی ہیں، مگر اکثر طلبہ کا علم محض کتابی چند جملوں یا پریزینٹیشن سلائیڈز تک محدود ہے۔ کردار سازی، تحقیق اور مطالعے کی عادت پس منظر میں جا چکی ہے، اور ایک ”ڈگری کلچر“ نے جنم لے لیا ہے جس میں مقصد صرف سند لینا رہ گیا ہے، نہ کہ علم حاصل کرنا۔
چھوٹے شہروں کے کیمپسز کی صورت حال مزید پیچیدہ ہے۔ بنیادی سہولیات کا فقدان، تجربہ کار اساتذہ کی کمی اور عملی تربیت کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے میں طلبہ بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں مگر وہاں رہائش اور اخراجات کا بوجھ ان کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔ یوں ایک طرف تعلیمی مواقع سکڑ رہے ہیں اور دوسری طرف طبقاتی تقسیم مزید گہری ہو رہی ہے۔
یہ صورتحال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اعلیٰ تعلیم چند خوشحال طبقات تک محدود ہو جائے گی۔ حکومت اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ اسکالرشپس اور مالی امداد کے دائرے کو وسیع کریں، نصاب میں فوری اور بنیادی اصلاحات لائیں، آن لائن اور ہائبرڈ تعلیم کے ماڈلز کو فروغ دیں، اور چھوٹے شہروں میں موجود یونیورسٹی کیمپسز کو معیاری سہولیات سے آراستہ کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے محض ڈگریاں بانٹنے کی فیکٹریاں نہ رہیں بلکہ وہی معیار واپس لائیں جس نے کبھی ہمارے تعلیمی نظام کو دنیا میں مثال بنا دیا تھا۔
اگر ہم نے آج اس بحران کا حل نہ نکالا تو آنے والا وقت ایک ایسے معاشرے کا نقشہ کھینچے گا جہاں ڈگریاں کم اور محرومیاں زیادہ ہوں گی، اور اعلیٰ تعلیم کا خواب صرف چند امیر گھرانوں کی میراث بن کر رہ جائے گا۔ اس وقت شاید ہم ماضی کو حسرت بھری نگاہوں سے یاد کر رہے ہوں گے، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔
یوسف صدیقی







