اردو غزلیاتسپنا مولچندانیشعر و شاعری

جو وفادار نہیں ہو سکتا

سپنا مولچندانی کی ایک اردو غزل

جو بھی کرتا ہے محبت تجھ سے
وہ سمجھدار نہیں ہو سکتا

خود کو دفتر میں یہ سمجھاتے ہیں
روز اتوار نہیں ہو سکتا

بے وفاؤں سے تعلق رکھنا
میرا معیار نہیں ہو سکتا

عشق میں ہوتا ہے مجرم وہ شخص
جو گرفتار نہیں ہو سکتا

عشق میں ہوتی ہے دشواری پر
عشق دشوار نہیں ہو سکتا

دل سے ہوتی ہیں خطائیں لیکن
دل گنہ گار نہیں ہو سکتا

عشق بھی کر نہ سکے کوئی شخص
اتنا بے کار نہیں ہو سکتا

سپنا مولچندانی

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button