آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریلطیف ساجد

خطہُ شعر میں تہذیبوں کی

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

خطہُ شعر میں تہذیبوں کی صف بندی ہے
کوئی رومی ہے یہاں کوئی سمر قندی ہے

مجھ کو آواز بتا دیتی ہے کون آیا ہے
کارِ دستک بھی کوئی کارِ ہنر مندی ہے

آپ درویش کی کٹیا میں کہاں آتے تھے
وہ تو تفریحی مقامات پہ پابندی ہے

سارا بچپن تو گزر جاتا ہے مزدوری میں
باپ بوڑھا ہو تو بے کار کی فرزندی ہے

ہر سخن ساز نہیں ہوتا ہے مرزا غالب
ہر سخن ساز کے احساس کی حد بندی ہے

سالہاسال سے مصروفِ عمل ہوں ساجد
بھانپ لیتا ہوں کسے کیسی غرض مندی ہے

لطیف ساجد

post bar salamurdu

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button