خطہُ شعر میں تہذیبوں کی صف بندی ہے
کوئی رومی ہے یہاں کوئی سمر قندی ہے
مجھ کو آواز بتا دیتی ہے کون آیا ہے
کارِ دستک بھی کوئی کارِ ہنر مندی ہے
آپ درویش کی کٹیا میں کہاں آتے تھے
وہ تو تفریحی مقامات پہ پابندی ہے
سارا بچپن تو گزر جاتا ہے مزدوری میں
باپ بوڑھا ہو تو بے کار کی فرزندی ہے
ہر سخن ساز نہیں ہوتا ہے مرزا غالب
ہر سخن ساز کے احساس کی حد بندی ہے
سالہاسال سے مصروفِ عمل ہوں ساجد
بھانپ لیتا ہوں کسے کیسی غرض مندی ہے
لطیف ساجد








