آپ کا سلاماردو نظمثوبیہ نورین نیازیشعر و شاعری

میں بھی تیرے جیسی ہوں

ثوبیہ نورین نیازی کی ایک اردو نظم

تو نے پوچھا ہے مجھ سے

کیسی ہوں میں
سچ بتلاؤں میں تجھ کو
میں بھی تیرے جیسی ہوں
شعر و سخن سے رغبت ہے
نظمیں لکھتی رہتی ہوں
جذب دل کی شدت سے
حرفوں کی مالا جپتی ہوں
دل کرتا ہے تو بھی کہے
خود سے اپنے لفظوں میں
خوشبو کا اک پیکر ہو
چاند نگر کی رانی ہو
وارث شاہ کی ہیر ہو تم
بلھے شاہ کی کافی ہو
میرے دل میں ازلوں سے
دھڑکن بن کے رہتی ہو
یہ تیری آواز مجھے
سر گوشی میں آتی ہے
اور کہیں کھو جاتی ہے
آ راز کی بات بتاتی ہوں
میں بھی تجھے سناتی ہوں
دکھ دل میں جب ہوتا ہے
میں ودرد وظائف کرتی ہوں
سب دور مصائب ہوتے ہیں
جب اسم اعظم پڑھتی ہوں
جب تو خواب میں آتا ہے
میں تیری خاطر سجتی ہوں
جب آئینے میں تکتی ہوں
میں تیرے جیسی لگتی ہوں
اے خواب نگر کے شہزادے
مری خواہش ہے اک مدت سے
میرے بھاگ جگانے آ جاؤ
تم کسی بہانے آ جاؤ
تمھیں دیکھے صدیاں بیت گئیں
مجھے مکھ دکھلانے آ جاؤ

ثوبیہ نورین نیازی

post bar salamurdu

ثوبیہ نورین نیازی

ثوبیہ نورین نیازی کا تعلق فیض احمد فیض کی سرزمیں نارووال سے ہے - ابتدائی تعلیم اپنے ہی شہر سے حاصل کی - بعد ازاں اعلی تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا اور یہی پہ رہائش پذیر ہیں - شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں- ایک شعری مجموعہ میرا محرم راز اور ایک نثری مضامین کی کتاب کبھی دیکھ پلٹ کر شائع ہو چکی ہیں - جبکہ دوسرا شعری مجموعہ تاروں کے دشت میں زیر طبع ہے - ثوبیہ نورین نیازی پاکستان کے بڑے اخبار نوائے وقت میں کالمز لکھتی ہیں - اس کے علاوہ خدمت خلق کے کئی اداروں سے وابستہ ہیں - ثوبیہ نورین نیازی نے اپنے اشعار میں محبت کے سچے جذبوں کو پورے خلوص سے بیان کیا ہے ان کے ہاں سادگی، سلاست اور روانی ہے - زیادہ تر چھوٹی بحر میں شاعری کرتی ہیں - چند لفظوں میں بڑی سے بات بیان کرنے کا ہنر جانتی ہیں - نثر میں واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ سے متاثر ہیں - تصوف اور وحدت الوجود کا بیان بڑی گہرائی اور وسعت قلب سے کرتی ہیں -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button