میں بھی تیرے جیسی ہوں
ثوبیہ نورین نیازی کی ایک اردو نظم
تو نے پوچھا ہے مجھ سے
کیسی ہوں میں
سچ بتلاؤں میں تجھ کو
میں بھی تیرے جیسی ہوں
شعر و سخن سے رغبت ہے
نظمیں لکھتی رہتی ہوں
جذب دل کی شدت سے
حرفوں کی مالا جپتی ہوں
دل کرتا ہے تو بھی کہے
خود سے اپنے لفظوں میں
خوشبو کا اک پیکر ہو
چاند نگر کی رانی ہو
وارث شاہ کی ہیر ہو تم
بلھے شاہ کی کافی ہو
میرے دل میں ازلوں سے
دھڑکن بن کے رہتی ہو
یہ تیری آواز مجھے
سر گوشی میں آتی ہے
اور کہیں کھو جاتی ہے
آ راز کی بات بتاتی ہوں
میں بھی تجھے سناتی ہوں
دکھ دل میں جب ہوتا ہے
میں ودرد وظائف کرتی ہوں
سب دور مصائب ہوتے ہیں
جب اسم اعظم پڑھتی ہوں
جب تو خواب میں آتا ہے
میں تیری خاطر سجتی ہوں
جب آئینے میں تکتی ہوں
میں تیرے جیسی لگتی ہوں
اے خواب نگر کے شہزادے
مری خواہش ہے اک مدت سے
میرے بھاگ جگانے آ جاؤ
تم کسی بہانے آ جاؤ
تمھیں دیکھے صدیاں بیت گئیں
مجھے مکھ دکھلانے آ جاؤ
ثوبیہ نورین نیازی







