- Advertisement -

سختیاں کھینچیں سو کھینچیں پھر بھی جو اٹھ کر چلے

میر تقی میر کی ایک غزل

سختیاں کھینچیں سو کھینچیں پھر بھی جو اٹھ کر چلے
چلتے اس کوچے سے ہم پر سینکڑوں پتھر چلے

مارگیری سے زمانے کی نہ دل کو جمع رکھ
چال دھیمی اس کی ایسی ہے کہ جوں اجگر چلے

کیونکے ان کا کوئی وارفتہ بھلا ٹھہرا رہے
جنبش ان پلکوں کو ہوتی ہے کہ جوں خنجر چلے

اب جو وہ سرمایۂ جاں یاں تلک آیا تو کیا
راہ تکتے تکتے اس کی ہم تو آخر مر چلے

میں نہ کہتا تھا دم بسمل مرے مت آئیو
لوٹتے دامن کی اپنے زہ لہو میں بھر چلے

چھوڑ جانا جاں بہ لب ہم کو کہاں کا ہے سلوک
گھر کے گھر یاں بیٹھے جاتے ہیں تم اٹھ کر گھر چلے

صاف سارا شہر اس انبوہ خط میں لٹ گیا
کچھ نہیں رہتا ہے واں جس راہ ہو لشکر چلے

پائوں میں مارا ہے تیشہ میں نے راہ عشق میں
ہو سو ہو اب گوکہ آرا بھی مرے سر پر چلے

لائے تھے جاکر ابھی تو اس گلی میں سے پکار
چپکے چپکے میر جی تم اٹھ کے پھر کیدھر چلے

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل