آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعُظمی جَون
نقشِ کُہن کو آج مٹانے لگا ہوں میں
ایک اردو غزل از عُظمی جٙون
نقشِ کُہن کو آج مٹانے لگا ہوں میں
اس بے وفا کو دل سے بھلانے لگا ہوں میں
کوچہء دلبراں میں نہ جانے کا حکم تھا
کوچہء دلبراں میں ہی جانے لگا ہوں میں
پوچھا ہے اُس نے رازِ حیات و ممات، سو
مُٹھی میں لے کے خاک اُڑانے لگا ہوں میں
کون و مکاں، زمین و زماں، جا بہ جا رہا
اب آکے میری جان ! ٹھکانےلگا ہوں میں
ذہنوں میں واپسی کا نہ آئے خیال بھی
ساحل پہ کشتیوں کو جلانے لگا ہوں میں
منصور کی طرح سے *”انالحق”* کہا ہے اور
دار و رسن گلے سے لگانے لگا ہوں میں
جانا ہے جس کو جائے، اجازت سبھی کو ہے
جلتا ہوا چراغ بجھانے لگا ہوں میں
عُظمی جَون








