آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعُظمی جَون

نقشِ کُہن کو آج مٹانے لگا ہوں میں

ایک اردو غزل از عُظمی جٙون

نقشِ کُہن کو آج مٹانے لگا ہوں میں
اس بے وفا کو دل سے بھلانے لگا ہوں میں

کوچہء دلبراں میں نہ جانے کا حکم تھا
کوچہء دلبراں میں ہی جانے لگا ہوں میں

پوچھا ہے اُس نے رازِ حیات و ممات، سو
مُٹھی میں لے کے خاک اُڑانے لگا ہوں میں

کون و مکاں، زمین و زماں، جا بہ جا رہا
اب آکے میری جان ! ٹھکانےلگا ہوں میں

ذہنوں میں واپسی کا نہ آئے خیال بھی
ساحل پہ کشتیوں کو جلانے لگا ہوں میں

منصور کی طرح سے *”انالحق”* کہا ہے اور
دار و رسن گلے سے لگانے لگا ہوں میں

جانا ہے جس کو جائے، اجازت سبھی کو ہے
جلتا ہوا چراغ بجھانے لگا ہوں میں

عُظمی جَون

post bar salamurdu

عُظمی جَون

عُظمی جَون- سِبّی : بلوچستان-دو شعری مجموعوں کے خالق :*خِزاں کی رُت سُنہری ہے**ستارے میرے آنسو ہیں*- پروفیسر/پرنسپل (ریٹائرڈ)- مقامی، صوبائی، ملکی اور عالمی مشاعروں میں شرکت۔ لاتعداد ایوارڈ و اسناد یافتہ۔ *فن اور شخصیت*- *خِزاں کی رُت سُنہری ہے کا فنی جائزہ* - *"خِزاں کی رُت سُنہری ہے" کا تنقیدی جائزہ*- *عُظمی جَون کی شاعری میں روایت و جدیدیت کا تقابلی جائزہ* جیسے عنوانات کے تحت BS, ایم ایس اور M.Phil کی سطح پر تحقیقی مقالہ جات۔ Face Book, YouTube، Instagram جیسے سوشل میڈیا پر Uzmee Jaon کے نام سے چینل اور پیجز۔ریختہ اور گوگل پر مواد موجود۔آذربائیجان میں عارضی رہائش۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button