رحمان فارس

سر بسر یار کی مرضی پہ فدا ہو جانا

رحمان فارس کی ایک غزل

سر بسر یار کی مرضی پہ فدا ہو جانا

کیا غضب کام ہے راضی بہ رضا ہو جانا

بند آنکھو وہ چلے آئیں تو وا ہو جانا

اور یوں پھوٹ کے رونا کہ فنا ہو جانا

عشق میں کام نہیں زور زبردستی کا

جب بھی تم چاہو جدا ہونا جدا ہو جانا

تیری جانب ہے بتدریج ترقی میری

میرے ہونے کی ہے معراج ترا ہو جانا

تیرے آنے کی بشارت کے سوا کچھ بھی نہیں

باغ میں سوکھے درختوں کا ہرا ہو جانا

اک نشانی ہے کسی شہر کی بربادی کی

ناروا بات کا یک لخت روا ہو جانا

تنگ آ جاؤں محبت سے تو گاہے گاہے

اچھا لگتا ہے مجھے تیرا خفا ہو جانا

سی دئیے جائیں مرے ہونٹ تو اے جان غزل

ایسا کرنا مری آنکھوں سے ادا ہو جانا

بے نیازی بھی وہی اور تعلق بھی وہی

تمہیں آتا ہے محبت میں خدا ہو جانا

اژدہا بن کے رگ و پے کو جکڑ لیتا ہے

اتنا آسان نہیں غم سے رہا ہو جانا

اچھے اچھوں پہ برے دن ہیں لہٰذا فارسؔ

اچھے ہونے سے تو اچھا ہے برا ہو جانا

رحمان فارس

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button