ابنِ صفیاردو غزلیاتشعر و شاعری

آج کی رات کٹے گی کیوں کر

ابن صفی کی ایک اردو غزل

آج کی رات کٹے گی کیوں کر ساز نہ جام نہ تو مہمان
صبح تلک کیا جانئے کیا ہو آنکھ لگے یا جائے جان

پچھلی رات کا سناٹا کہتا ہے اب کیا آئیں گے
عقل یہ کہتی ہے سو جاؤ دل کہتا ہے ایک نہ مان

ملک طرب کے رہنے والو یہ کیسی مجبوری ہے
ہونٹوں کی بستی میں چراغاں دل کے نگر اتنے سنسان

ان کی بانہوں کے حلقے میں عشق بنا ہے پیر طریق
اب ایسے میں بتاؤ یارو کس جا کفر کدھر ایمان

ہم نہ کہیں گے آپ کے آگے رو رو دیدے کھوئے ہیں
آپ نے بپتا سن لی ہماری بڑا کرم لاکھوں احسان

ابنِ صفی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button