- Advertisement -

زخم اپنے گلاب کر دینا

ایک غزل از نجمہ کھوسہ

زخم اپنے گلاب کر دینا

روح کو ماہتاب کر دینا

ڈال کر اک نظر محبت کی

سب کو تم لا جواب کر دینا

روح کے زخم روشنی دیں گے

ہجر کو آفتاب کر دینا

پتھروں سے اگر جو بچنا ہو

عکس کو بھی سراب کر دینا

باب لکھنا ہو زندگی کا اگر

چاہتوں کو نصاب کر دینا

اپنی تعبیر ڈھونڈنے کے لئے

اپنی آنکھوں کو خواب کر دینا

خود کو مسمار کر کے شاہیں تم

اک ستارہ شہاب کر دینا

نجمہ کھوسہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک غزل از نجمہ کھوسہ