آپ کا سلاماردو غزلیاترومانہ رومیشعر و شاعری

کبھی پرکھو تو لفظوں کو

رومانہ رومی کی ایک اردو غزل

کبھی پرکھو تو لفظوں کو معانی سے نکل کر
ذرا سوچو کبھی تم بھی کہانی سے نکل کر

کرن اُمید کی من کا اندھیرا بھی مٹا دے
دیا کوئی جلائے بدگمانی سے نکل کر

ہر اِک منظر مر ی نظرو ں میں ہے بے رنگ سا اب
کہاں خوش ہوں کسی کی مہربانی سے نکل کر

گریزاں ہے جو میری ذات سے اس سے یہ کہنا
کبھی دیکھے ذرا وہ خوش کمانی سے نکل کر

تھکا ڈالا ہے ہم کو بھی غموں کی میزبانی نے
ذرا غم بھی تو دیکھیں میزبانی سے نکل کر

میں ساری عمر کی محنت کو کیسے رائیگاں لکھ دوں
کہاں جاؤں تمھاری مہربانی سے نکل کر

تمھیں محسوس کیسے ہو کسی کا درد رومی
کبھی دیکھو تو اپنی راج دھانی سے نکل کر

رومانہ رومی

post bar salamurdu

رومانہ رومی

افسانہ نگار اور شاعرہ – ان کا تعلق کراچی سے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button