اردو نظمشعر و شاعریفاخرہ بتول

خودکُشی

فاخرہ بتول کی ایک اردو نظم

خودکُشی
مدر’ز ڈے کے لئے ایک نظم

وہ اپنے بچوں کے زرد چہروں کو دیکھتی ھے
کبھی تو اُن کو وہ چُومتی ھے
کبھی وہ اُن کی اُداس آنکھوں میں،
گہرے فاقوں کو کھوجتی ھے
وہ سوچتی ھے
کوئی خوشی ان کو دے نہ پائی
وہ زندگی ان کو دے نہ پائی
ھے گھر میں آٹا نہ دال دلیہ
نہ گیس، بجلی کا بِل بھرا ھے
سکول سے نام، بچوں کا، کٹ چکا ھے
وہ خالی پٹری کو دیکھتی ھے
ٹرین آنے کا وقت شائد قریب ھے اب
وہ اپنے بچوں کو اپنے سینے میں،
گویا اُس پل اُتارتی ھے
اور آخری بار چُومتی ھے
وہ اُن کو ہولے سے کہہ رہی ھے
جہاں پہ جانا ھے آج ھم کو
وہاں پہ کھانے کو بھی ملے گا
ٹرین آ کر چلی گئی ھے……
جہاں تھے بچٌے،جہاں پہ ماں تھی
وہاں پہ کچھ بھی تو اب نہیں ھے
وہاں پہ بکھرے ھیں چند پُرزے،
وہ خالی بستہ،وہ ماں کی ممتا
مگر وہاں اور کچھ نہیں ھے

فاخرہ بتول

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button