ابنِ انشاءاردو غزلیاتشعر و شاعری

کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا

ابن انشا کی ایک غزل

کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تیرا

ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پُوچھا کیے

ہم ہنس دیئے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردا تیرا

اس شہر میں کِس سے مِلیں، ہم سے تو چُھوٹیں محفلیں

ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا

کُوچے کو تیرے چھوڑ کے جوگی ہی بن جائیں مگر

جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا

تُو باوفا، تُو مہرباں، ہم اور تُجھ سے بدگماں؟

ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا تیرا

بے شک اسی کا دوش ہے، کہتا نہیں خاموش ہے

تو آپ کر ایسی دوا، بیمار ہو اچھا تیرا

ہم اور رسمِ بندگی؟ آشفتگی؟ اُفتادگی؟

احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حُسنِ بے پروا تیرا

دو اَشک جانے کِس لیے، پلکوں پہ آ کر ٹِک گئے

الطاف کی بارش تیری، اکرام کا دریا تیرا

اے بے دریغ و بے اَماں، ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟

ہم کو تِریوحشت سہی، ہم کو سہی سودا تیرا

ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگُزر

رَستہ کبھی روکا تیرا، دامن کبھی تھاما تیرا

ہاں ہاں تیری صُورت حسِیں، لیکن تُو اتنا بھی نہیں

اس شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کیا کیا تیرا

بے درد، سُنتی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل

عاشق تیرا، رُسوا تیرا، شاعر تیرا، اِنشاؔ تیرا

ابن انشا

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button