آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعمران ہاشمی

تمنا وصل کی کس رات

عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل

تمنا وصل کی کس رات نئیں کی
رقیبوں نے ہی خالی گھات نئیں کی

محبت کو سمجھ ممنوعِ روزہ
مہینہ بھر سے اُن نے بات نئیں کی

بہت بانٹے جہاں بھر میں وہ جلوے
ہمیں ہی اک جھلک خیرات نئیں کی

ملے ہر اک سے وہ پہلو بہ پہلو
یہ نیکی بس ہمارے ساتھ نئیں کی

وہ شاید دے ہی دیں خلوت کی نعمت
کبھی اس رخ پہ ہم نے بات نئیں کی

بہت گُل بُوٹیاں کِھلتیں پر اُس نے
حنا بندی ہمارے ہاتھ نئیں کی

وہ سوچیں "پائے رفتن، جائے ماندن”
وہ پیدا صورتِ حالات نئیں کی

اُٹھائے ناز بہتیرے پر اُس سے
کوئی شکوہ کوئی ہیہات نئیں کی

نجابت دار ہیں معشوق و عاشق
سو رُسوا عزّتِ سادات نئیں کی

عمران ہاشمی

post bar salamurdu

عمران ہاشمی

شاعر، افسانہ نگار، کالمسٹ - شعری مجموعہ ’’عکسِ جاں‘‘۲۰۱۱ - ادبی وابستگی: حلقہ اربابِ ذوق گوجرانوالہ - انجمن ترقی پسند مصنفین گوجرانوالہ و پنجاب - آغازِ شاعری 2001 - مینجنگ ڈائریکٹر: عامی پرنٹنگ پریس گوجرانوالہ - بن ہاشم پبلیکیشنز گوجرانوالہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button