آپ کا سلاماردو غزلیاتتجدید قیصرشعر و شاعری

آج سورج غروب ہونے تک

تجدید قیصرکی ایک اردو غزل

آج سورج غروب ہونے تک
چھوڑ آنا اُسے بچھونے تک

دیکھنا نیند اس کو آ جائے
جاگتے رہنا اس کے سونے تک

اپنے پیروں کے بل کھڑی ہوں میں
ہاتھ جاتا نہیں کھلونے تک

پھول ہے تُو میں پتی پتی ہوں
تیرا ہونا ہے میرے ہونے تک

پھول بکھرے پڑے تھے کمرے میں
دھوپ آئی ہوئی تھی کونے تک

تجدید قیصر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button