آپ کا سلاماردو غزلیاتافتخار شاہدشعر و شاعری

بام و در پہ جڑی اداسی ہے

افتخار شاہد کی ایک اردو غزل

بام و در پہ جڑی اداسی ہے
آج کتنی کڑی اداسی ہے

مجھ سے چھوٹی ہے عمر میں لیکن
مجھ سے قد میں بڑی اداسی ہے

پاوں جھٹکے ہیں جب رقاصہ نے
گھنگرووں سے جھڑی اداسی ہے

میں تو کہتا ہوں دو گھڑی ہنس لیں
اپنی ضد پہ اڑی اداسی ہے

کیا اسے ساتھ لے لیا جائے
راستے میں کھڑی اداسی ہے

میں تری بات مان لوں لیکن
میرے پاوں پڑی اداسی ہے

زلف زنجیر خوشنما ہے مگر
اس کی پہلی کڑی اداسی ہے

ہر نظّارہ اداس ہے شاھد
ہر نظر میں گڑی اداسی ہے

افتخار شاہد

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button