آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے

سعید شارق کی ایک اردو غزل

گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے
یہ بازگشت جو چپکی ہوئی ہے کانوں سے

کھرا نہیں تھا مگر ایسا رائیگاں بھی نہ تھا
وہ سکہ ڈھونڈ کے اب لاؤں کن خزانوں سے

یہ چشم ابر کا پانی یہ نخل مہر کے پات
اتر رہا ہے مرا رزق آسمانوں سے

جو در کھلے ہیں کبھی بند کیوں نہیں ہوتے
یہ پوچھتا ہی کہاں ہے کوئی مکانوں سے

اتار پھینکا بدن سے لباس تک شارقؔ
مگر یہ بوجھ کہ ہٹتا نہیں ہے شانوں سے

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button