آپ کا سلاماردو غزلیاتروبینہ شادشعر و شاعری

چہرے کا رنگ، ہاتھ کی مہندی

روبینہ شاد کی ایک اردو غزل

چہرے کا رنگ، ہاتھ کی مہندی نہ چھین لے
عُسرت کسی کے باپ سے بیٹی نہ چھین لے

رازق نے رزق اس لیے رکھا ہے اپنے پاس
دنیا کہیں غریب سے روٹی نہ چھین لے

صد شکر، یہ خیال ستاتا نہیں مجھے
کوٹھی نہ چھین لے، کوئی گاڑی نہ چھین لے

اس درجہ تاج و تخت پہ نازاں نہ ہوں حضور
ربِ جلیل آپ سے شاہی نہ چھین لے

دھج سے کھڑی ہوں سینہ سپر، قتل گاہ میں
دستِ عدو سے اب کوئی برچھی نہ چھین لے

دل کو رہا بس ایک ہی دھڑکا، تمام شب
طوفان ماہی گیر سے مچھلی نہ چھین لے

سچّائی لکھ رہی ہوں، سو مجھ سے امیرِ شہر
کاغذ، قلم، دوات، سیاہی نہ چھین لے

روبینہ شاد

post bar salamurdu

روبینہ شاد

روبینہ شاد کا شمار ملک کے ابھرتے ہوئے نوجوان قلم کاروں میں ہوتا ہے۔ وہ منفرد لب و لہجے کی شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معلمہ اور موٹیویشنل سپیکر بھی ہیں۔ ان کی پیدائش 25 نومبر 1990 کو راولپنڈی میں ہوئی۔ ان کا آبائی تعلق شکرگڑھ کے ایک نواہی گاؤں بمبوہ سے ہے۔ پیدائشی نابینا ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بننے دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام اباد سے اردو ادب میں ایم فل کیا اور اسی جامعہ میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں، علاوہ ازیں ایم ایڈ سپیشل ایجوکیشن کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔ 2018 میں انہوں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا اور بحیثیت اردو لیکچرر اپنی عملی زندگی کا اغاز کیا۔ ان دنوں وہ گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین مری روڈ راولپنڈی میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہی ہیں۔ بحیثیت شاعرہ انہیں بہت سے ایوارڈز، اعزازات اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کا ایم فل کا تحقیقی مقالہ بعنوان (اقبال عظیم کی غزلیات کا موضوعاتی مطالعہ) کتابی شکل میں شائع ہو کر منظر عام پر آ چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button