چہرے کا رنگ، ہاتھ کی مہندی نہ چھین لے
عُسرت کسی کے باپ سے بیٹی نہ چھین لے
رازق نے رزق اس لیے رکھا ہے اپنے پاس
دنیا کہیں غریب سے روٹی نہ چھین لے
صد شکر، یہ خیال ستاتا نہیں مجھے
کوٹھی نہ چھین لے، کوئی گاڑی نہ چھین لے
اس درجہ تاج و تخت پہ نازاں نہ ہوں حضور
ربِ جلیل آپ سے شاہی نہ چھین لے
دھج سے کھڑی ہوں سینہ سپر، قتل گاہ میں
دستِ عدو سے اب کوئی برچھی نہ چھین لے
دل کو رہا بس ایک ہی دھڑکا، تمام شب
طوفان ماہی گیر سے مچھلی نہ چھین لے
سچّائی لکھ رہی ہوں، سو مجھ سے امیرِ شہر
کاغذ، قلم، دوات، سیاہی نہ چھین لے
روبینہ شاد








