آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

رکاوٹیں تھیں وہاں جا بجا پہ ناکہ تھا

ایک اردو غزل از رشید حسرت

رکاوٹیں تھیں وہاں جا بجا پہ ناکہ تھا
عجیب طرزِ عمل تھا کہ خوش ادا کا تھا

میں اس کے گاؤں سے پہلے کبھی نہیں گزرا
مجھے تھا خوف کہ دشمن کا وہ علاقہ تھا

وہ دلبری میں کمالِ ہنر پہ تھا فائز
کہ دلپذیر تھا، وش رنگ جانے کیا کیا تھا

میں جانتا ہوں اسے اب کے سر گرانی ہے
کہ زہر میں نے یونہی بے سبب نہ پھاکا تھا

کسی کے سرد رویّے انا کی آڑ میں تھے
یہ میرے حق پہ نہیں، زندگی پہ ڈاکہ تھا

لڑی میں وقت کی کس جا ہیں پھول، کانٹے کہاں؟
تمہارے سامنے انجان ایک خاکہ تھا

لدے ہیں پشت پہ اب بھی اداسیوں کے سال
ہر ایک دن مرے اندر کوئی چھناکا تھا

تمام عمر پہ اس پل کی راجدھانی رہی
کہ جس میں اس نے توجہ سے مجھ کو تاکا تھا

بنا رہا ہے یہ مرکز، سیاستوں کا رشیدؔ
ابھی کھلا ہے کہ دل، دل نہیں تھا ڈھاکہ تھا

رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۲۱ اپریل، ۲۰۲۶

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button