آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری
رکاوٹیں تھیں وہاں جا بجا پہ ناکہ تھا
ایک اردو غزل از رشید حسرت
رکاوٹیں تھیں وہاں جا بجا پہ ناکہ تھا
عجیب طرزِ عمل تھا کہ خوش ادا کا تھا
میں اس کے گاؤں سے پہلے کبھی نہیں گزرا
مجھے تھا خوف کہ دشمن کا وہ علاقہ تھا
وہ دلبری میں کمالِ ہنر پہ تھا فائز
کہ دلپذیر تھا، وش رنگ جانے کیا کیا تھا
میں جانتا ہوں اسے اب کے سر گرانی ہے
کہ زہر میں نے یونہی بے سبب نہ پھاکا تھا
کسی کے سرد رویّے انا کی آڑ میں تھے
یہ میرے حق پہ نہیں، زندگی پہ ڈاکہ تھا
لڑی میں وقت کی کس جا ہیں پھول، کانٹے کہاں؟
تمہارے سامنے انجان ایک خاکہ تھا
لدے ہیں پشت پہ اب بھی اداسیوں کے سال
ہر ایک دن مرے اندر کوئی چھناکا تھا
تمام عمر پہ اس پل کی راجدھانی رہی
کہ جس میں اس نے توجہ سے مجھ کو تاکا تھا
بنا رہا ہے یہ مرکز، سیاستوں کا رشیدؔ
ابھی کھلا ہے کہ دل، دل نہیں تھا ڈھاکہ تھا
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۲۱ اپریل، ۲۰۲۶








