ایران میں احتجاجی طوفان
ایران میں احتجاجی طوفان : مذہبی کارڈ کی ناکامی اور عوامی شعور کی فتح
ایران میں دسمبر 2025 کے آخر میں شروع ہونے والے احتجاج نے ملک کے طول و عرض میں ایک بے مثال عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ابتدا میں یہ مظاہرے مہنگائی، بے روزگاری، اور کرنسی کی گرتی قدر جیسے معاشی مسائل کے خلاف تھے، لیکن چند ہفتوں کے اندر یہ ایک مکمل سیاسی اور سماجی تحریک میں تبدیل ہو گئے، جس نے حکومتی بیانیہ اور روایتی طاقت کے ڈھانچے کو گہرا چیلنج دیا ہے۔
یہ احتجاج ملک کے تمام بڑے شہروں میں پھیل چکا ہے، اور لاکھوں افراد مختلف شہروں کی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق، احتجاج کے دوران سیکورٹی فورسز نے سخت کریک ڈاؤن کیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد گرفتار ہوئے اور سینکڑوں مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومت نے باضابطہ اعداد و شمار
شائع نہیں کیے، جبکہ ملک گیر انٹرنیٹ اور مواصلات تقریباً بند کر دیے گئے، جس سے معلومات تک رسائی محدود اور مظاہرین کی منظم قیادت مشکل ہو گئی۔
اسی دوران حکومت نے احتجاج کے اصل مطالبات کو چھپانے کے لیے مذہبی اور خارجی بیانیہ استعمال کرنے کی کوشش کی۔ سرکاری میڈیا اور بعض حکومتی اراکین نے مظاہرین کو بیرونی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ایجنڈے سے جوڑنے کی کوشش کی اور انہیں "دشمنوں کے آلے” کے طور پر پیش کیا۔ اس بیانیے کا مقصد عوامی ناراضگی کو داخلی بحرانوں سے ہٹانا اور اسے مذہبی یا خارجی خوف کے ذریعے کمزور دکھانا تھا۔
تاہم، عوام نے واضح طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے مطالبات صرف اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات، روزگار، مہنگائی اور انسانی حقوق سے متعلق ہیں۔ مظاہرین نے اپنے احتجاج کو مذہبی یا سیاسی بیانیے سے آزاد رکھا اور بارہا یہ پیغام دیا کہ ان کا غم و غصہ اقتصادی اور سیاسی بدحالی پر مبنی ہے، نہ کہ کسی بیرونی سازش یا مذہبی تشخص پر۔ مختلف شہروں میں لوگوں نے حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف نعرے بھی لگائے، جو اس بات کا مظہر ہے کہ عوامی شعور نے مذہبی کارڈ کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔
انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور اطلاعات کی روک تھام کے باوجود عوام نے احتجاج جاری رکھا، جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ عوامی تحریک اب مذہبی بیانیے یا طاقت کے استعمال سے دبائی نہیں جا سکتی۔ عوامی مطالبات حقیقی، عملی اور عوامی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں، اور یہی ان تحریک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
یہ تحریک نہ صرف ایران کے اندرونی سیاسی ڈھانچے کے لیے اہم ہے بلکہ اس کے نتائج عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ایران کی سڑکوں پر بلند ہونے والی آواز یہ ثابت کرتی ہے کہ عوام تبدیلی، انصاف اور انسانی وقار کے لیے کھڑے ہیں اور اس جدوجہد کو مذہبی کارڈ یا بیرونی سازشوں کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔ حقیقت یہی ہے کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں، اور یہی تبدیلی کا سب سے مضبوط اور واضح اظہار ہے۔
ایران کی موجودہ تحریک نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ حقیقت اور عوامی مطالبات کسی بھی بیانیہ یا خوف کی طاقت سے زیادہ مضبوط ہیں۔ مذہبی کارڈ کی سیاست اب ناکام ہو چکی ہے، اور عوامی شعور نے اپنی جگہ مضبوطی سے قائم کر لی ہے۔ یہ لمحہ ایران کی تاریخ میں عوامی جدوجہد اور شعور کی فتح کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
یوسف صدیقی








