اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر حسن

ہم نہ نکہت ہیں نہ گل ہیں

میر حسن کی اردو غزل

ہم نہ نکہت ہیں نہ گل ہیں جو مہکتے جاویں
آگ کی طرح جدھر جاویں، دہکتے جاویں

اے خوشامست کہ تابوت کے آگے جس کے
آب پاشی کے بدل، مے کو چھڑکتے جاویں

جو کوئی آوے ہے نزدیک ہی بیٹھے ہے ترے
ہم کہاں تک ترے پہلو سے سرکتے جاویں

غیر کو راہ ہو گھر میں ترے، سبحان اللہ
اور ہم دور سے در کو ترے تکتے جاویں

وقت اب وہ ہے کہ ایک ایک حسن ہو کے بتنگ
صبر و تاب و خرد و ہوش کھسکتے جاویں

میر حسن

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button